اسلام میں ہی عزت ہے

طارق بن شہاب کہتے ہیں  کہ ایک وفد خلیفہ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زیرِ قیادت بیت المقدس کی  زیارت کے لیے روانہ ہوا ،حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ہمراہ تھے ۔جب ہم بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اونٹنی سے نیچے اتر کر پیدل چلنے لگے۔اور اپنے جوتے اتار کر بغل میں لے لیے ۔خلیفۃالمسلمین کی اس بے نیازی کو دیکھ کر حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا ۔امیر المؤمنین ! بڑے بڑے یہودی ربی، عیسائی پادری اور مسلم زعماء آپ کے استقبال کے لیے آرہے ہیں ،آپ کی یہ سادگی دیکھ کر وہ لوگ کیا کہیں گے ! حضرت عمررضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے  : ابو عبیدہ ! اگر یہ بات کوئی دوسرا کرتا تو میں اسے عبرت ناک سزا دیتا ،کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہم لوگ روئے زمین پر سب سے زیادہ ذلیل اور پست تھے ،اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی برکت سے عزت بخشی ، جب ہم غیر اسلامی طور طریقوں اور عادات و اخلاق میں عزت تلاش کریں گے ۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں لوگون کی نظروں میں ذلیل اور پست کر دیں گے ۔(رواہ الحاکم فی المستد رک)