کیلا ایک مفید پھل

کیلا بہت زیادہ لذیذ پھل ہے اس کا شمار ان پھلوں میں ہوتا ہے جن کا ذکر قران پاک میں آیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

ترجمہ،(جنت کے باغوں میں ) کیلے تہہ بہ تہہ ہیں (سورۃ الواقعہ:آیت 29)

کیلا فارسی زبان کا لفظ ہے اسے عربی میں موز ، سندھی میں کیلو، اور انگلش میں بنانا کہتے ہیں ۔
کیلا قدیم بھارت اور ملایا کا پھل ہے ۔پاکستان میں کیلے کی کاشت صوبہ سندھ میں بکثرت ہوتی ہے ۔
غذائی اعتبار سے کیلا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہےاس میں ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو دوسرے پھلوں میں کم ملتے ہیں ۔
کیلے میں وٹامنز ،پروٹین ،اور معدنی اجزاء انتہائی موزوں مناسبت سے پائے جاتے ہیں جو بے حد غذائیت بخش اور جسم کے لئے مظبوط ہوتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اسے سب سے منفرد پھل سمجھا جاتا ہے ایک کیلے میں تقریباً”100″غذائی حرارے ہوتے ہیں ۔اگر کیلے کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ایک مکمل متوازن غذا بن جاتی ہے ۔قبض کے لیے کیلا بڑا کار آمد ہے۔
کیلے میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ نقصان پہنچانے والے بیکٹیریا کو مفید بیکٹیریاز میں تبدیل کر دیتا ہے ۔جوڑوں کے درد والے مریضوں کے لیے بھی کیلے کا استعمال بڑا مفید ہے ۔ایسے مریضوں کو چار دن تک ہر روز آٹھ یا نو کیلے کھلانے سے یہ بیماری ختم ہو جاتی ہے  ۔شرط یہ ہے کہ اس دوران میں انہیں کوئی اور چیز کھانے کو نہ دی جائے ۔کیلے میں فولاد کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے ،اس لیے خون کی کمی والے مریضوں کے لیے بے حد مفید ہے۔
کیلا گردوں کے لیے بھی بڑی کار آمد غذا ہے اس کا استعمال پیشاب کے ساتھ خون آنے سے بھی روکتا ہے ۔جو لوگ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے خواہش مند ہوں انہیں کیلے اور کریم نکلا دودھ دونوں ملا کر استعمال کرنا چاہیئے ۔اس مقصد کے لیے ہر روز چھ کیلے اور چار گلاس کریم نکلے دودھ کے یا چار گلاس لسی کے کافی سمجھے جاتے ہیں ۔یہ علاج کم سے کم پندرہ دن تک جاری رکھا جائے تو وزن نارمل سطح پر آجاتا ہے۔
کیلا خون گاڑھا کرتا ہے اور ہضم ہونے پر بلغمی خون پیدا کرتا ہے ۔ دانتوں کی بیماریوں کے لیے انتہائی مفید ہے ۔کیلا کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے ۔کیلے کی جڑ کا پانی معدے کے کیڑوں کو خارج کرتا ہے ۔
دل کے درد میں دو عدد پختہ کیلے اور ایک تولہ یعنی دس گرام شہد ملا کر استعمال کرنے سے دل کا درد ختم ہو جاتا ہے ۔ کیلا ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا چاہیئے،کیونکہ اس سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔