نکولا ٹیسلا – ٹیکنولوجی کا مسیحا

قریباً سو سال پہلے ایک امریکن موجد نکولا ٹیسلا نےوہ چیزیں ٹھیک کرنا شروع کیں جو کبھی خراب نہیں تھیں۔یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر بلکہ اکثرلوگ موم بتی سے روشنی حاصل کرتے تھے۔ اب کہانی کو تھوڑی دیر کیلئے یہیں روکتے ہیں۔

nicola tesla 1ہم میں سے زیادہ تر لوگ تھامس ایڈیسن کو جدید پرکیات کا بانی قرار ستے ہیں ۔برقی بلب تھامس کی شہرت کی بڑی وجہ بنا۔لیکن بلب تھامس کی نہیں بلکہ نکولا ٹیسلا کی ایجاد ہے۔مجھے یقین ہے کے آپ میں سے بیشتر لوگ حیران ہوئے ہوں گے اور مجھ سے اختلاف بھی کریں گے مگر یہی سچائی ہے۔تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد نہیں کیا بلکہ اس کے ڈیزائن اور کام میں تھوڑی بہتری لا یا۔ایڈیسن نے بلب کو بیچنے کا صحیح طریقہ ڈھونڈا ۔اس نے برقی بلب کو مارکیٹ کیا ،پیسہ بنایا اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔
“مگر تھامس ایڈیسن برقیاتی دور کا بانی ہے”ہر کوئی

ٹیسلا اپنے کیئر یر کی شروعات میں تھامس ایڈیسن کے پاس کام کرتا تھا ۔ایڈیسن نے ٹیسلا آفر کی کے اگر ٹیسلا اسکے ڈی سی جنریٹر اور موٹر میں خامیاں تلاش کرکے انھین ٹھیک کر دے تو بدلہ میں وہ اسے ایک اچھی رقم دے گا ،جو آج کل کے دور کے ایک ملین ڈالر کے برابر بنتی تھی۔ٹیسلا نے دونوں چیزوں ٹھیک کر کے انھیں کام کرنے کے قابل بنادیا۔اب وعدے کے مطابق ٹیسلا نے تھامس ایڈیسن سے پیسے مانگے تو اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا ”ٹیسلا! تم کبھی ہمارے امریکی طبیعت کو نہیں سمجھ پاؤ گے“

اس نے ایڈیسن کے پاس کام کرنا چھوڑدیا،اور اے-سی کرنٹ پر کام کرنے لگا ۔اسکے تجربات کام یاب ہے۔ایڈیسن کے ڈی-سی کرنٹ سسٹم کو ہر میل کے بعد ایک پاور سٹیشن چاہئے ہوتا تھا کیونکہ وہ زیادہ دور تک بجلی نہیں پہنچا سکتا تھا ۔جبکہ ٹیسلا کا اے-سی کرنٹ سسٹم باریک تاریں استعمال کرتا تھا اور ہائی وولٹ کے ساتھ دور تک بجلی کی فراہم کر سکتا تھا۔

nicola tesla 2

کیا آپ میں سے کسی نے ”مارکونی “ کا نا م سنا ہے؟

مارکونی کو ریڈیو کی ایجاد پر طبیعیات(فزکس) کا نوبل انعام ملا۔

مارکونی نے جو بھی کام یا ایجادات کیں وہ ٹیسلا کے پہلے سے کی ہوئیں ریسرچ پر مبنی تھا۔یہاں تک کے ریڈیو بھی

”مارکونی ایک اچھا ساتھی ہے ۔اسے اسکا کام جاری رکھنے دینا چاہئے ،وہ میرے ستارہ پیٹنٹ (سند حقِ ایجاد/تحوتی ایجاد) استعمال کر رہا ہے ۔“ نکولا ٹیسلا

کیا آپ کو ریڈار کے بارے میں کچھ علم ہے ؟ اگر ہاں! تو آپ اسکی اہمیت اور کام تو جانتے ہوں گے۔

۱۹۳۵ء میں انگلش سائنس دان رابرٹ اے واٹسن واٹ کو ریڈار کا موجد قرار دیا گیا۔

کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کے ۱۹۱۷ء میں ریڈار کا آئیڈیا کس شخص کو آیا تھا؟

جی ہاں ! نکولا ٹیسلا ۔ اس نے۱۹۱۷ء میں جنگِ عظیم اول کی شروعات میں امریکن نیوی کو ریڈار کے بارے میں بتایا۔ لیکن بد قسمتی سےاس وقت تھامس ایڈیسن امریکن نیوی کا ار&ڈی ہیڈ تھا۔ اس نے اعلیٰ عہدیداروں کو یقین دلایا کے ریڈار کو جنگ میں عملی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ناموزوں اور نا قابلِ قبول ہے ۔

Thomas edison

تھامس ایڈیسن

ایکس-ریز کی دریافت کا سہرا سائنس دان ول ہیلم کے سر باندھا جاتا ہے ۔لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کے ایکس-ریزکے پیچھے نکولا ٹیسلا کا بھی کام ہے۔ایکس-ریز کے شروعاتی دور میں یہ خیال کیا جاتا تھا کے ان میں آنکھوں کے امراض ٹھیک ہوسکتے ہیں جو کے سراسر غلط تھا ۔ٹیسلا نے یہ بات متعدد بار دوسرے سائنس دانوں کو بتائی بلکہ اسے ثابت بھی کیا ۔تھامس ایڈیسن   ہر جگہ ٹیسلا کو غلط ثابت کنا چاہتا تھا ۔اس نے اپنے اسسٹنٹ پر ایکس-رے کے تجربات کیے ۔ہائی ریڈیشن کے باعث اسکے دونوں بازو خراب ہو گئے جو اسکی جان بچانے کیلئے کاٹنے پڑے لیکن وہ چند دنوں کے بعد مر گیا۔اسکے علاوہ ایڈیسن نے اپنی آنکھوں پر بھی ایکس-ریز کا استعمال کیا جس سے وہ تقریباً اندھا ہوگیا۔

اسکے بعد ایڈیسن سے کسی نے اس واقع کے متعلق دریافت کیا تو اس نے درج ذیل بات کہہ کر اسے ٹال دیاnikola bulb،
“مجھ سے ایکس-ریز کی بات نہ کرو مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔”

اس کے علاوہ بھی ٹیسلا نے بہت سی کارآمد ایجادات اور دریافتیں کی۔جنہوں نے آنے والے وقت میں انسانیت کو بے انتہا فائدہ پہنچایا۔

اس نے دنیا کا پہلا ہائڈرو ایلکٹرک پلانٹ بنایا ۔

نکولا وہ پہلا شخص تھا جس نے باہری خلاء سے ریڈیو لہریں ریکارڈ کیں۔

اس نے زnicola tesla oldمین کی ریسوننٹ فریکوینسی دریافت کی ۔

ریمورٹ کنٹرول،ماڈرن ایلکٹرک موٹر ،نیون لائٹ،بغیر تاروں کی کمیونیکیشن بھی اسی کی ایجادات ہیں۔

نکولا ٹیسلا کل آٹھ زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کے نکولا ٹیسلا ایک عظیم انسان تھا ۔اس نے انسانیت کے لئے بہت سے کام کیے ۔وہ ایک جینیس تھا ۔مگر اسے وہ کریڈٹ اور نام نہیں مل سکا جو دوسرے سائنس دانوں اور موجدوں کو ملا۔