امتحانی مرکز – ایک ہنستی مسکراتی تحریر

میں پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی مرکز کے سامنے کھڑا تھا ۔ ہر طرف طلباء ہی طلباء  تھے۔ مرکزی دروازے کے پاس تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ پھر بھی جیسے تیسے کر تے ہم اندر پہنچے پرچہ شروع ہونے میں  ابھی قریباً آدھا گھنٹہ باقی تھا ۔ میں امتحانی مرکز کی پارکنگ میں جاکر بیٹھ گیا۔ اِ دھر اُدھر کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگا۔ زیادہ تر طلباء ہاتھوں میں کتابیں اٹھائے باتوں میں مشغول تھے ۔ کئی اپنے بچھڑے دوستوں کو گلے سے لگائے بیٹھے تھے ۔ وہیں پر کئی عجیب و غریب قسم کی وضع قطع اپنائے  دو دو فٹ اونچے  بالوں والے  لائق فائق  طالب ِ علم جنہیں  ملک کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے             قہقہے لگاتے نظر آرہے تھے تو کہیں  کئی نیک سیرت بچے ہاتھوں کو سر سے بلند کیے “پاس” ہونے کی دعائیں مانگ رہے تھے ۔ان کے علاوہ مجھے طالب علموں کی ایک اور خاص قسم سے بھی پالا پڑا جو میرے لیے قطعی طور پر نئی نہیں تھی ہاں جی! صحیح پہچانا یہ قسم ہاتھوں میں موبائیل فون لیے دنیا و مافیا سے بے خبر “ایس ایم ایس “کرنے اور اپنے محبوب ترین سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ “فیس بک” پر سٹیٹس اپڈیٹ کرنے میں مصروف تھے۔انہیں اپنے اردگرد کی نہ کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔کہیں کہیں دور  کبھی اکا دکا طالب علم پڑھتے ہوئے نظر آجاتے  وگرنہ کسی کے پاس اتنا وقت  ہی نہیں تھا کہ کتاب پر آخری بار نظریں دوڑالیں شاید غلطی سے کچھ سمجھ ہی لگ جائے مگر ایسا کرے تو کون ؟؟؟
میں  پارکنگ سے اٹھا اور یونیورسٹی سے منسلک کھیتوں کا نظارہ کرنے انکی طرف چل دیا۔ وہاں کا منظر ہی اور تھا ۔طلباء مختلف کھیلوں میں مصروف ہیں کہیں “پکڑن پکڑائی ” کھیلی جا رہی ہے تو کہیں “چھپن چھپائی ” سے شغل ہو رہا ہے۔کوئی  ہو نہار  چارےکے کھیتوں کو خراب کرنے  میں مصروفِ عمل ہیں ۔غریب کسانوں کی محنت کو محض مزے کیلئے ضائع کیا جا رہا ہے۔کچھ  عجیب  اور غریب قسم کے طالب علم مٹی پر بیٹھے کتابیں   ہاتھوں میں لیے ہل ہل کر ‘رٹا’ لگا کر دل بہلا رہے تھے۔امتحانی مرکز نہ ہوا سکول ہو گیا یہ بھی کوئی پڑھنے کی جگہ ہے اب آپ ہی بتاو۔

Examinaltion centre

آخر الله الله کر کے ہال کا گیٹ کھلا اور ہم تھوڑا  ڈر ٹھوڑی امید اور تھوڑی گھبڑاہٹ لیے  اندر داخل  ہوئے ۔ سیٹ ڈھونڈی اور اس پر نوابوں کی طرح براجمان ہو گئے آخر کیوں نہ ہوتے اس پر ہمارا رول نمبر جو لکھا تھا ۔نگران حضرات بھی تھوڑے ہٹ کے تھے ان کے بارے میں کسی اور وقت لکھوں گا یہ مجھ پر آپ کا پہلا ادھار ہو گیا ویسے اکثر لکھا ہو دیکھا ہے کہ”ادھار ایک جنگ ہے اس لیے بند ہے” مگر جنگ میں بھی تو ہر چیز جائز ہے تو ادھار ہی سہی۔پیپر شروع ہوا انگریزی کا پرچہ تھا میری تیاری ٹھیک ہی تھی بسم الله  پڑھ کر پیپر شروع کیا ۔۔آدھا وقت گزرنے کے بعد جب سب طالب علم “بوٹیاں” نکالنے اور ادھر اُدھر سے پوچھنے میں Examination centerمصروف ہو گئے تو نگران صاحب کہ تھوڑی ہوش آئی کہ ان معصوم اور پھول جیسے بچوں کی تلاشی بھی لینی ہوتی ہے۔.ہماری قطار کا نگران ایک ۵۰-۶۰ سال کا چست بوڑھا نوجوان تھا ۔وہ صرف منتخب  طلباء کی ہی  طلاشی لے رہا تھا۔والله علم کہ اسکے انتخاب کا معیار کیا تھا ، جو بھی ہو ہم اس کے وضع کردے معیار پر پورا اترے۔وہ صاحب ہمارے پاس تشریف لائے  اور ہمیں اپنی رول نمبر سلپ نکالنے کو کہا۔ہم نے سلپ انکے حوالے کردی۔ کافی دیر تک رول نمبر سلپ پر موجود  تصویر کو ہماری شکل کے ساتھ ملانے کے بعد جب انھیں یقین ہو گیا کہ میں “اصلی “بندہ ہوں تو وہ میری تلاشی لینے لگے۔ ہمارے بٹوے میں دو ڈھائی سو روپے تھے۔اب وہ تو ہمارے سر ہو گئے کہ میں یہ پیسے “رشوت”کے طور پر لایا ہوں۔بارہا سمجھانے کےباوجود کہ یہ کوئی رشوت نہیں بلکہ رکشے کا کرایہ ہے وہ نہ مانے۔ ویسے رکشے والا اتنے میں مان جائے تو ہمارے لیے غنیمت ہے  رشوت تو دور کی بات۔میں نے دل میں سوچا کہ “اتنے کم پیسوں میں  تو صرف آپ ہی بک سکتے ہیں کوئی اور تو دیکھے بھی نہ ۔ رشوت خوروں کی بھی تو کوئی عزت ہو تی ہے کہ نہیں”۔خیر اسکے بعد وہ مجھ سے عجیب  نوعیت کے سوالات پوچھنے لگ گئے ۔پیپروں میں  کتنے نمبر آجائیں گے، تم کبھی یورپ گئے ہو یا نہیں، آج ناشتہ میں کیا کھایا  وغیرۃ۔ جب نگران صاحب کو تسلی ہو گئی کہ میرا اچھا خاصا   وقت برباد کر چکے ہیں تو وہ آگے بڑھ گئے کسی اور کا سر کھانے۔آخر ڈھائی گھنٹے بعد پیپر ختم ہوا اور میں باہر آیا ۔آزادی کیا چیز ہے اس کا مجھے ہال سے باہر نکلنے کے بعد اندازہ ہو ا ۔قصہ مختصر اسکے بعد میں گھر آگیا ۔باقی پرچوں کا حال بھی اس سے کچھ خاص مختلف نہیں ۔لیکن ہمیں رزلٹ کی کوئی “ٹینشن” نہیں کیوں کے نتیجہ جو بھی ہو قصور ہمیشہ “سسٹم ” کا ہی ہوتا ہے۔