غلام کا شاگرد – ایک مختصر مگر اچھوتی تحریر

ایک دفعہ ایک شہر میں سخت قحط پڑا اور لوگ بھوک سے مرنے لگے ۔ ایک بزرگ بازار سے گزرے تو ایک غلام کو نہایت خوش خوش جاتے دیکھا ۔ بزرگ نے کہا اے غلام ! یہ خوشی اور مسرت کا کون سا موقع ہے ؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ مخلوقِ خدا کی بھوک سے کیا حالت ہو رہی ہے ؟ غلام نے کہا ، مجھے کیا ڈر ہے ؟ میں تو کسی کا غلام ہوں اور میرے مالک کے پاس غلہ موجود ہے ، وہ ہر گز مجھے بھوکا نہیں رکھے گا ۔ ایک غلام کی زبان سے یہ الفاظ سن کر اس بزرگ کی آنکھوں سے آنسو آگئے ۔ اور حالت غیر ہو گئی اور کہا کہ الہٰی ! یہ شخص اپنے اس مالک کی وجہ سے جس کے پاس غلہ کی چند بوریاں ہیں ، اس قدر خوش اور بے فکر ہے اور میرا مالک تو تُو ہے جو دونوں جہانوں کا مالک ہے اور سب کو روزی دینے والا ہے ، بھلا میں کیوں غم کھاؤں ۔ اس وقت سے اس بزرگ نے اللہ پر بھروسہ اور اللہ کی اطاعت پر زیادہ توجہ دی ، وہ بزرگ کہتے تھے میں ایک غلام کا شاگرد ہوں ۔