دنیا کے چند حیرت انگیز انسان – جن کے سامنے عقل دنگ رہ جاتی ہے

ولیم نامی ایک شخص کا تعلق اسکاٹ لینڈ سے تھا ۔ ولیم بچپن ہی سے مطالعے کا بہت رسیا تھا ۔ اس کے پاس کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا ، لیکن بدقسمتی سے وہ1866 میں ایک حادثے کا شکار ہو گیا ۔ اس حادثے میں نہ صرف اس کی بینائی ختم ہو گئی بلکہ اس کے دونوں ہاتھ بھی کاٹ دیے گئے ۔ ولیم کی دنیا اندھیر ہو گئی ، لیکن اس کے مطالعے کا شوق ختم نہ ہوا ۔ ولیم نے اپنی معذوری کو اپنے شوق کے آڑے نہ آنے دیا ۔ اس نے ہمت سے کام لیا اور زبان کی نوک سے چھو کر وہ کتابیں پرھنے لگا جو کہ نابینا افراد کے لیے لکھی جاتی ہیں ۔ یون ولیم نے معذوری میں بھی اپنے شوق کو پورا کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ۔ ماہرین کے مطابق بینائی ختم ہونے کے بعد ولیم کی دماغی کارکردگی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی تھی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ زبان سے صرف چکھنے کا کام نہیں لیتا تھا بلکہ وہ اس سے انہیں ہاتھوں کی طرح لفظوں کی بناوٹ سمجھتا تھا ۔

1962میں اگلشیوا نامی روسی لڑکی نے بھی سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اسے یہ انوکھی صلاحیت حاصل تھی کہ وہ انگلیوں کی مدد سے چھو کر پڑھ لیا کرتی تھی ۔ یہ مت سمجھیے گا کہ نابینا افراد کے لیے لکھی گئی کتابیں پڑھا کرتی تھی ۔ جی نہیں ! وہ عام رسالے ، اخبار کی تحریروں کو بھی انگلیوں سے مس کر کے پڑھ لیتی تھی ۔ وہ تصویر پر ہاتھ پھیر کر اس کی پوری تفصیلات بھی بتا دیتی تھی ۔ وہ مختلف رنگوں کے ٹکڑوں کو الگ الگ کر لیتی تھی ۔ رنگ برنگے دھاگوں کو پہچان لیتی تھی ۔

یہ واقعات پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ایسا ممکن ہے ؟ تو اس کا سادہ سا جواب اتنا ہی ہے کہ ایسا ممکن ہے ۔ یہ انسانی دماغ کا ہی کرشمہ ہے کہ ایک انسان جس نے کبھی ایک چیز کو نہیں دیکھا ، اس کی تصویر بنا رہا ہے اور وہ حقیقت سے قریب تر تصویر بنا لیتا ہے ۔ زبان سے چھو کر پڑھ لیتا ہے اور بینائی نہ ہونے کے باوجود بھی وہ کام کر لیتا ہے کہ آنکھوں والے بھی حیرت زدہ رہ جائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ابھی تک خود کو اور اپنے دماغ کو ہی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا ہے ۔ کبھی نہ کبھی کوئی ایسا واقعہ اور معمہ ضرور پیش آتا ہے جو حضرت انسان کے دماغ پر دستک دیتا ہے اور وہاں پر اسے اپنا حاصل کردہ

کتابی علم صفر محسوس ہوتا ہے ۔ علم کا یہ سفر تو ہر دور میں جاری و ساری رہے گا مگر ہر دور میں حضرت انسان علم کے معاملے میں تشنہ ہی رہے گا ۔ یہ اس بات کی طرف

اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ

انسان علم رکھتا ہے مگر بہت کم