ڈینگی سے کیسے بچا جائے ۔۔۔؟؟

آج کل پھر ہر جگہ ڈینگی کا ذکر ہے ۔ یہ بخار مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے لیکن یہ مچھر بہت نفاست پسند ہوتا ہے یہ ہمارے عام مچھروں کی طرح گٹروں ، نالیوں یا گندی جگہ پر نہیں ہوتا ، یہ بخار اکتوبر سے دسمبر کے ماہ میں ہوتا ہے ۔

ڈینگی بخار دو طرح کا ہوتا ہے ۔

(1)براہِ راست ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے ۔

(2) ڈینگی کے مریض کو عام مچھر کاٹ لے ، پھر وہ ہی مچھر کسی صحت مند انسان کو  کاٹ لے ۔

اس بخار میں مریض بالکل سست ہو جاتا ہے اور بہت  کمزوری محسوس کرتا ہے ۔

خون کے تین اجزاء ہیں ۔ سفید ذرات ، سرخ ذرات اور پلیٹلٹیس ۔ اس بخار میں پلیٹلٹیس کی تعداد کم ہو جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ خون پتلا ہو کر ناک ،کان اور دانتوں میں سے نکلتا ہے ۔ پلیٹلیٹس کی عمر آٹھ (8) گھنٹے ہوتی ہے ۔ اس لیے بخار کے دوران ضروری ہے جو دن میں دو بار یا ایک بار ضرور ہونا چاہیے ۔Blood Test

اس سے پلیٹسلیٹس کی تعداد کا پتا چلتا ہے کہ ان کی موجودہ تعداد کیا ہے ، جیسے ہی ان کی تعداد بڑھنا شروع ہو گی مریض کی طبیعت بھی ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گی ۔ ایک صحت مند انسان میں پلیٹلیٹس کی تعداد 000، 400

چار لاکھ بھی ہوتی ہے ۔ لیکن نارمل تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار ہے ۔ عموماً اس بخار میں لوگ بہت پریشان ہوجاتے ہیں ۔ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ۔ اگر مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے ۔

(1)مریض مکمل آرام کرے صرف ضروری کام کے لیے اٹھے جیسے واش روم جانا ہو ۔

(2) اگر کھانا کھانے کو دل نہ چاہے تو مجبور نہ کیا جائے ۔

(3) ایسے پھلوں کا رس دینا چاہیے جس میں سٹرک ایسڈ (Citric Acid)

ہو۔ یہ پھل کھٹے ہوتے ہیں ۔ جیسے نارنگی، انار، گریپ فروٹ وغیرہ ۔

(4) بخار کے دوران دوائی کے طور پر صرف  دینی چاہیے۔ بچوں کو سیرپ Panadol

اور بڑوں کو ٹیبلٹ ۔

(5) اگر روز ایک ڈرپ بھی لگوا لیں تو کوئی حرج نہیں اس سے کمزوری محسوس نہیں ہوگی ۔

ہمارے ہاں کچھ اناڑی ڈاکٹر اس بخار میں بھی اینٹی بائیوٹک دے دیتے ہیں جس کے استعمال سے سفید ذرات اور پلیٹلیٹس کی تعداد مزید کم ہو جاتی ہے ۔ ایک بخار کی وجہ سےپہلے ہی پلیٹلیٹس کم ہوتے ہیں اور اس طرح اور کم ہو جاتے ہیں ۔

پلیٹلیٹس کی تعداد پپیتے کے پتون سے بڑھتی ہے ۔ پپیتے کے پتوں کو دھو کر انہیں گاجر کا جوس نکالنے والی مشین میں ڈال کر جوس نکال لیں اور دن میں ایک دو چمچ دیں ۔ یہ علاج تین دن کرنا ہے ۔ دوسرے ہی دن مریض کی طبعیت بحال ہو جائے گی اور کچھ کھانے کو جی چاہے گا ۔ شہد کا استعمال ضرور کریں ۔اور سیب کے جوس میں لیمن نچور کر پینے سے بھی افاقہ ہوتا ہے ۔ صدقہ خیرات کرتے رہیں ۔ علاج کرنا انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور شفا دینے والی اللہ کی ذات ہے ۔