کشمیر جنتِ بے نظیر۔۔۔!!!

سلطنتِ مغلیہ کا تاجدار نورالدین جہانگیر کشمیر کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے اپنی سوانح عمری تزک جہانگیری میں لکھتا ہے کہ کشمیر ایک سدابہار اور مظبوط ترین قلعہ ہے ۔ بادشاہوں کے لیے ایک عشرت افزا اور درویشوں کے لیے ایک دل کشا خلوت کدہ ہے ۔اس کے خوش نما چمن اور دل کشا آبشار شرح و بیان سے باہر ہے اور  آب ورواں اور دریائی چشمے بے حد ہیں ۔جہاں تک نظر جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ اور آب و رواں دکھائی دیتا ہے ۔ گل سرخ، بنفشہ، خورد نرگس ،صحرا صحرا کھلے ہوئے ہیں ۔قسم قسم کے پھول اس قدر ہیں کہ شمار نہیں ہو سکتا ۔ موسمِ بہار میں پہاڑ اور جنگل قسم قسم کے شگوفوں سے مالا مال اور مکانوں کے درو دیوار صحن و بام لالہ کی مشعلوں سے جگمگا رہے ہیں ۔

شہنشاہ نور الدین جہانگیر بسترِ مرگ پر ہے درباریوں نے پوچھا :” حضور فضیلتِ مآب کی کوئی خواہش ہے ؟” جہانگیر نے آہ بھر کر کہا ۔” صرف کشمیر ۔”

ریاست جموں کشمیر بھارت کے شمال مغرب اور پاکستان کے شمال مشرق میں ایک متنازعہ ریاست ہے جس کے ایک حصےّ پر بھارت نے تقسیمِ بر صغیر کے بعد سے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہ ہی وہ قضیہ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں کشیدگی چلی آرہی ہے ۔

یہ ریاست حسن و خوبصورتی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔اس میں بلند و بالا پہاڑوں کے سلسلے ہیں جن میں کوہ ہمالیہ اور قراقرم قابلِ ذکر ہیں ۔ دریائے جہلم شہر سری نگر سے ہو کر گذرتا ہے ۔ یہ وادی بڑی ذرخیز اور پُر رونق ہے ۔

kashmeer shutter stock image for free

بھارتی مقبوضہ کشمیر کا رقبہ اٹھاون ہزار مربع میل ہے ۔ اس دارلحکومت سری نگر ہے ۔ جب کہ آزاد کشمیر کا پچیس ہزار مربع میل ہے ۔ اس کا دارلحکومت  مظفر آباد ہے ۔ کشمیر کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 77 فی صد ہے ۔

وادی کشمیر میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے ۔آنکھوں میں خود بخود ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔ سینکڑوں کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی وادی میں جگہ جگہ پہاڑوں کے کنارے چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ وادی کشمیر میں جگہ جگہ چشمے و جھیلیں اور نہریں چاندی کی طرح دمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ، یہاں قدرت کا حسن اپنے عروج پر ہے ۔

جھیلوں میں کنول کے پھول عجیب نظارہ دیتے ہیں ۔وادی کی بیشتر جھیلیں دریائے جہلم سے جا ملتی ہیں ۔جس کا اپنا منبع بھی خود کشمیر میں ہے ۔

safe_image (8)

سری نگر مقبوضہ کشمیر کا دارلحکومت  اور نہروں کا شہر بھی کہلاتا ہے ۔یہ دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے عمارتیں قدیم زمانے کی ہیں ۔شہر کے عین وسط میں شاہ ہمدان کی بنائی ہوئی مسجد ہے ۔

آزاد کشمیر کا شہر میر پور بھی بہت خوب صورت ہے ۔دریائے جہلم کے کنارے منگلا جھیل سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔یہاں منگلا کا پرانا قلعہ بھی ہے ۔

کشمیر کا ایک خوشگوار پہلو یہاں کی پہاڑی چراگاہیں ” یا مرگ ” اور ” سونمرگ ” ہیں ۔یہ نسبتاً زیادہ اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے ٹھنڈی ہیں ۔اسی لیے انگریزوں نے یہاں تفریحی مراکز قائم کیے تھے ۔  چراگاہوں میں تقریباً تمام اقسام کے مویشی چرتے نظر آتے ہیں ۔یعنی بھیڑ ،بکریاں گائے اور گھوڑے۔ یہاں ایسی بکریاں بھی ہوتی ہیں جن کی دم نہیں ہوتی ۔ ان کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے ۔ بھینسیں کم یاب بلکہ نایاب ہیں ۔

سری نگر کے عین وسط میں صاف وشفاف چشمے اور دل کش جھیلیں ہیں ۔ جھیل ڈل کشمیر کا آئینہ ہے ۔ جو سری نگر کے عین وسط میں ہے ۔سیاحوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ دنیا بھر میں جھیل ڈل کی خوب صورتی لاجواب ہے ۔اس جھیل کے مثل ، کسی اور ملک میں کوئی جھیل نہیں ۔

kashmeer a jannat of pakistan

قدرتی مناظر اور حسن و زیبائش میں جھیل  ڈل کے  مشابہ ایک اور جھیل “جھیل ولر” ہے یہ جھیل ڈل کی نسبت بڑی اور وسیع ہے ۔ کشمیر کی یہ جھیل سب سے بڑی اور دلکش جھیل ہے ۔

کشمیر کی خاص بڑی بڑی جھیلوں کے علاوہ سینکڑوں چھوٹی جھیلیں بھی ہیں جو اس خطہ حسین و جمیل کے طول و عرض میں رواں دواں نظر آتی ہیں ۔اس سلسلے کی دو شفاف جھیلیں ” تارسر” اور ” مارسر” ہیں

کشمیر میں مغلیہ بادشاہوں کے باغات قابلِ دید ہیں ۔شالا مار باغ،نشاط باغ ،اور چشمہ شاہی ، خاص طور پر مشہور ہیں ۔یہ باغات شہنشاہِ  جہانگیر اور اس کے بیٹے شاہ جہان نے بنوائے تھے ۔ شالامار باغ جھیل ڈل سے ذرا پرے ہٹ کر بنا ہوا ہے ۔لیکن نشاط باغ عین جھیل کے پانی کے ساتھ لہللہا رہا ہے ،یہ باغات کسی زمانے میں مغل بادشاہوں کی آرام گاہیں تھیں ۔

سیاھ ملکوں ملکوں کی سیر کرتے ہیں لیکن جو خوشی اور سکون انہیں کشمیر کے ابلتے ہوئے قدرتی حسن سے ملتا ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں ملتا۔ چاروں طرف پھیلی ہوئی قدرتی ہریالی آنکھوں کو سکون اور ٹھنڈک بخشتی ہے ۔ سیاحوں کا جی چاہتا ہے کہ یہیں کے ہو کر رہیں  اور اسے کبھی الوداع نہ کہیں ۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا کشمیر کے ساتھ گہرا ذہنی ، فکری آبائی تعلق تھا ۔ علامہ اقبال کی بڑی خواہش تھی کہ وہ خطہ کشمیر جائیں ، چنانچہ آپ جون 1920 ء میں کشمیر گئے ۔ اس سفر کے بعد آپ نے تین نظمیں کشمیر کے موضوع پر لکھیں ۔جو آپ کی کتاب پیام مشرق میں شامل ہیں ۔