عشاء کی نماز

جو لوگ عرصہ دراز سے نماز پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی کبھار عشاء کی نماز انہیں بھی بوجھ محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ خصوصاً 17 رکعتوں کی بنا پر ۔۔۔۔ نمازِ عشاء کی چار رکعات تو بہرحال فرض ہیں ان کے ادا کرنے کے بعد آپ صرہر ف دو رکعات سنت پڑھ لیں ۔ کیونکہ یہ سنتِ مؤکدہ ہیں ۔آنحضرتﷺ نے انہیں باقاعدگی کے ساتھ ادا فرمایا اور ان کی بہت فضیلت بیان فرمائی ۔حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے دن رات میں بارہ رکعات نماز پڑھی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا ۔ یعنی چار رکعات ظہر سے پہلے  اور دو رکعتیں اس کے بعد ،دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعداور دو رکعتیں نمازِ فجر سے پہلے یہ ترمذی کی روایت کے الفاظ ہیں اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاط ہیں کہ حضرت امِ حبیبہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا کہ جو بھی مسلمان ہر روز فرض کے سوا بارہ رکعات پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا ۔

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نمازِ عشاء کی چار رکعات فرض کے بعد دو رکعت بطورِ سنت مؤکدہ اور پھر ایک رکعت نمازِ وتر پڑھ لی جائے تو کافی ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق و ہمت عطا فرمائے تو نوافل جس قدر ممکن ہو کثرت سے پڑھے جائیں ۔ کیونکہ فرائض میں رہ جانے والی کمی اور کوتاہی کو نافل سے پورا کردیا جائے گا ۔تاہم اگر آدمی نمازِ عشاء کے چار فرض ، دو سنتِ مؤکدہ اور ایک رکعت وتر یا تین رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی ۔ کبھی کبھار رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد 2 رکعت بیٹھ کر بھی ادا فرمایا کرتے تھے ۔۔۔۔۔نماز فجر اور عشاء کے لئے مسجد میں نہ آنا نفاق کی علامت ہے ۔ (بخاری )

۔۔۔۔۔ (محمد خالد یوسف )