یقین اور امید۔۔۔

ایک بار تمام گاؤں والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بارش کے لیے دعا کریں ۔دعا کے دن تمام لوگ اکھٹے ہوئے اور صرف ایک بچہ چھتری کے ساتھ آیا ۔”یہ تھا عقیدہ” جب ایک سال کے بچہ کو اچھالا جاتا ہے تو وہ ہنستا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے کیچ کر لیا جائے گا  “یہ یقین ہے “ہم ہر رات بستر پر جاتے ہیں ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ہم کل صبح زندہ اٹھیں گے لیکن اس کے با وجود ہم آنے والے کل کے لیے پلان بناتے ہیں “یہ ہے امید”۔