جنت کی تلاش ۔۔۔

ایک دن میرے ذہن میں یہ بات سمائی کہ جنت کو تلاش کروں ۔اسی جستجو میں بھٹکتی بھٹکتی باغ میں گئی ۔وہاں پھول مسکرا رہے تھے ۔پھولوں کی مسکراہٹ  نے بھنوروں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔اس معطر اور خوب صورت ماحول میں “کوئل”کی کوکو کی آواز سنتے ہوئے جھومتی ہوئی پھولوں کے سردار کے پاس گئی ۔اور اس سے جنت کا راستہ پوچھا ۔وہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کر بولا “نادان گھر لوٹ جاؤ”۔

میں نے چاند کی حسین چاندنی سے فریاد کی تو اس کی دلکش کرنیں گویا ہوئیں :

“نادان گھر لوٹ جا ؤ”۔

میں نے شفق سے جنت کا راستہ پوچھا تو اس نے اپنا چہرہ غصے سے سرخ کر کے کہا :نادان گھر لوٹ جاؤ”

میں نے آسمان کی زینت خوب صورت تاروں سے پوچھا تو ان کی سرگوشی سنائی دی۔”نادان گھر لوٹ جاؤ”۔

میں نے پھولوں کے محافظ کانٹوں سے پوچھا،وہ ہاتھ میں چبھے تو خون اور کانٹوں نے بیک وقت کہا :”نادان گھر لوٹ جاؤ”۔

میں قدرت کی ان حسین اور دلکش چیزوں سے مایوس ہو کر اداس و پریشان اور شکستہ دل گھر لوٹی تو مجھے شہد سے زیادہ میٹھی دل میں اتر جانے والی آواز سنائی دی:

“بیٹا تم اتنی پریشان کیوں ہو “۔

میں نے نظریں اٹھائیں تو دنیا کی سب سے حسین ہستی کو اپنے روبرو دیکھا اور نظریں جھکائیں تو جنت کی پوری رعنائی کو اپنے سامنے پایا ۔جب میں اس ہستی ،ماں کے قدموں میں جھکی تو کائنات کی تمام رنگینیوں نے خوش ہو کر مجھے جنت کو پا لینے کی مبارک باد دی ۔