چکن پاکس

چکن پاکس جسے لاکڑا کاکڑہ  بھی کہتے ہیں ۔ ایک عام بیماری ہے جو پورے جسم پر سرخ دھبوں اور جلن کا سبب بنتی ہے ۔یہ بچوں میں زیادہ عام ہے لیکن ہر اس شخص کو جس نے چکن پاکس ویکسین نہ لے رکھی ہو ،زندگی میں ایک مرتبہ ضرور ہوتی ہے ۔پاکستان کے دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی جہاں ویکسین دستیاب نہیں ، یہ وبا تیزی سے ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل ہو رہی ہے ۔

چکن پاکس بطورِ خاص ان بچوں کو ہوتی ہے جن کا مدافعتی نظام درست کام نہ کر رہا ہو ۔چکن پاکس سے متاثرہ بچوں کو دوسرے بچوں سے دور رکھنا چاہیے ۔جو بچے شروع ہی سے صحت مند ہوتے ہیں ان کے لیے اگرچہ یہ بیماری سنجیدہ نہیں لیکن پھر بھی ان بچوں کو اس وقت تک اسکول نہ بھیجیں جب تک وہ مکمل طور پر اس بیماری سے جان نہ چھڑا لیں ۔لہذا ان بچوں کو گھر میں آرام کرنا چاہیے۔چکن پاکس ختم ہونے کے باوجود بھی اس کے وائرس جسم میں موجود رہتے ہیں ۔اگر یہ دوبارہ سرگرم تو چکن پاکس سے زیادہ تکلیف دہ تعدیہ کی وجہ بن سکتے ہیں ۔جسے  (active)

شنگلز کہا جاتا ہے ۔چکن پاکس چھینکنے اور کھانے پینے کی اشیاء سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتا ہے ۔اس بیماری کی علامات جلن اور خارش ہوتی ہے ۔بخار ،سر درد ،کمزوری کا احساس ،بھوک نہ لگنا ،تھکن کا مسلسل احساس رہنا  اور گلا خراب رہنا ہے ۔اس کی علامات ظاہر ہونے میں 14 سے 16 دن لگتے ہیں جلد پر سرخ دھبے نمودار ہونے کے بعد 5 سے 7 دن تک روزانہ نئے نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر کو ضرور دکھانا چاہئے۔گھریلو علاج میں اجوائن اور نیم کے پتوں کی دھونی دینی چاہئے۔چکن پاکس کے لیے ویکسین کا استعمال کیا جاتا ہے ویکسین کی دو خوراکیں لینا ضروری ہیں

متاثرہ بچوں کو پانی یا مشروب زیادہ سے زیادہ پلائیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی کو روکا جاسکے اور بخار کی شدت کم ہو ۔متاثرہ بچے کو ٹھنڈے پانی سے ہر گز نہ نہلائیں کیونکہ جسم زیادہ ٹھنڈا ہو گا تو خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں ۔اس وجہ سے بخار کی تپش باہر نکلنے کی بجائےہڈیوں کو متاثر کرتی ہے ۔متاثرہ بچے کہ ٹھنڈی ہوا سے دور رکھیں ،البتہ کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا کا استعمال متاثرین کے لیے بہتر ہے ۔متاثرہ بچے کے ناخن تراشتے رہیں ۔تاکہ وہ متاثرہ مقامات کو کھجا نہ سکے کیونکہ کھجانے سے سرخ دھبے تیزی سے پھیلتے ہیں ۔