گفتگو کا فن

گفتگو ایک ایسا فن ہے جو ایک طرف تو انسانی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہے تو دوسری جانب بسا اوقات شخصیت کی دھجیاں بکھیر سکتی ہے ۔کیونکہ خاموشی ،عالم کے لیے زیور اور جاہل کے لیے جہالت کا پردہ ہے ۔اکثر افراد کی گفتگو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اتنے بلند ہیں کہ پہاڑوں کی چوٹیاں ان کے سامنے کچھ نہیں لیکن ان کی روح کی پیمائش کی جائے تو معلوم ہوتا کہ وہ ابھی بھی تاریک غاروں میں رینگ رہے ہیں ۔بلاشبہ انسان کی شخصیت کا سب سے مظبوط حوالہ اس کا کردار و عمل ہے ۔اور کردار و عمل کو انسانی گفتگو چار چاند لگا دیتی ہے ۔

عام لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ جو زیادہ بولے وہ ظرف میں کم اور جو چپ رہتا ہے وہ ظرف والا ہے کیونکہ جو شخص دوسرے کی باتوں کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکے ،وہ بھی کوئی خاص تاثر قائم نہیں کر سکتا ۔دوست احباب اسے مغرور تصور کرتے ہیں ۔اس لیے گفتگو کرتے وقت انتہائی محتاط رویہ اپنانا چاہیے ۔الفاظ کا استعمال انتہائی محتاط ہو کر کرنا چاہیے ۔کیونکہ زیادہ بولنا بھی اپنا تاثر کھو دیتا ہے ،چاہے انسان کے الفاظ ملکِ عدن کے موتی ہی کیوں نہ ہوں ۔مختصر اپنے لفظوں کی حفاظت کریں کیونکہ لفظ آپ کی عادت بن جاتے ہیں ۔عدت کی حفاظت کریں کیونکہ عادتیں آپ کا عمل بن جاتی ہیں ۔اپنے عملوں کی حفاظت کریں کیونکہ آپ کے عمل ہی آپ کی شخصیت بن جاتے ہیں ۔