ماں !

کون کہتا ہے دنیامیں غمگین ہوں میں

میرے درد والم کا سہارا ہے ماں

جب بھی مشکل سے گھبرا گئی میں کبھی

ہر مصیبت میں تم کو پکارا ہے ماں

یوں تو رشتے ہیں سارے معزّز مگر

معتبر سب میں رشتہ تمہارا ہے ماں

جس جگہ ماں نہیں ہے اندھیرا ہے واں

روشنی ہے چمکتا ستارہ ہے ماں

تیری خدمت ہی بخشش کا سامان ہے

تو ہدایت کا ایسا منارہ ہے ماں

ہاتھ پکڑے ہوئے خود بھی ہو رو رہی

تم نے تھپڑ جو غلطی سے مارا ہے ماں

گھر میں دولت کی جتنی بھی ہو ریل پیل

تم نہیں ہو تو سارا خسارہ ہے ماں

لوٹ جلدی سے تو دور پردیس سے

تیرے بن اب نہیں کچھ گزارا ہے ماں

(غازیہ شکیل ، کراچی)