وہ وقت جب شیخ سعدی ماں کے سامنے زبان درازی کی ۔۔۔

شیخ  سعدی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جوانی کے ایام میں جوانی کے دیوانے پن میں ، میں نے ماں سے جھنجھلا کر غصےّ سے بات کی ،بوڑھی ماں بے چاری ایک کونے میں ہو بیٹھی،چپکے چپکے کہنے لگی کہ تو وہ دن بھول گیا ،جب میں نے اپنا آرام حرام کر دیا ،نہ دن کو دن سمجھا نہ رات کو رات ،کلیجے کا خون پلا کر بڑا کر دیا  تو آج مجھ پے جھنجلاتا ہے ۔

شیخ سعدی کہتے ہیں کہ ماں کا جب یہ سخن سنا  ۔میں نے شرم سے سر جھکا لیا۔،میرے دل نے اس بات کا اتنا اثر لیا ،آنکھ سے مثل ابر آنسو جھڑے ،رونگھٹے کھڑے ہو گئے ،خیال گذرا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ خالق و رزاق رحیم و کریم ہے ،اس نے اپنی ان نعمتوں کا نمونہ دنیا کے پردے پر ماں باپ بنائے ہیں ،یہ با لکل سچ ہے ۔آسمان پر اللہ اور زمین پر ماں باپ،اسی وقت میں روتا ہوا ماں کے پاؤں پڑ گیا  اور خطا معاف کرائی۔