بت فروش سے بت شکن تک

محمود غزنوی نے جب ہندوستان کو فتح کیا اور سومنات کے تمام بت توڑ ڈالے تو جو بت ان میں سب سے بڑا تھا جب اس کو توڑنا چاہا تو سومنات کے پجاریوں نے بڑی آہ وزا ری  سے عرض کیا ،”اس بت کو نہ توڑو اور اس کے عوض اس بت کے وزن کے  برابر ہم سے سونا لے لو ۔”
سلطان محمود نے ارکان سے مشورہ کیا ۔سب نے یہ کہا کہ ہمیں فتح تو ہو چکی ہے ،اگر ایک بت کو چھوڑ دیا جائے تو ہمارا خاص نقصان نہیں اور اس کے بدلے جو مال ملے گا ،وہ لشکر اسلام کے کام آئے گا ۔اسی لشکر کے سپہ سالار مسعود غازی بھی تھے انھوں نے فرمایا ،یہ تو بت فروشی ہے اب تک بادشاہ بت شکن مشہور تھا ،اب بت فروش کہلائے گا ۔
یہ بات محمود غزنوی کے دل کو لگ گئی مگر ایک حد تک پریشانی باقی رہی دوپہر کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ میدانِ حشر بپا ہے اور اسے ایک فرشتہ دوزخ کی طرف یہ کہہ کر کھینچتا ہے کہ یہ بت فروش ہے ،دسرا فرشتہ کہتا ہے ،نہیں یہ تو بت شکن ہے ۔اسے جنت میں لے جاؤ۔اتنے میں آنکھ کھل گئی اور حکم دیا کہ فوراً اس بت کو بھی توڑ دیا جائے ۔جب بت کو توڑا تو اس کے پیٹ سے کثیر تعداد میں جواہرات نکلے ۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے بت فروشی سے بچا لیا اور جس مال کی خاطر بت فروشی کرنا چاہتے تھے اس سے کہیں زیادہ مال عطا کر دیا ۔