ایٹم بم سے سگریٹ جلانے والا شخص

سگریٹ نوشوں کے ساتھ بعض اوقات یہ واقعہ پیش آ جاتا ہے کہ سگریٹ کی طلب ہو رہی ہوتی ہے مگر سگریٹ سلگانے کیلئے کوئی چیز دستیاب نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں کہیں آگ جلتی نظر آ جائے تو اس سے بھی سگریٹ سلگا لیا جاتا ہے۔

مگر میں یہاں بات کرنے جا رہا ہوں ایک ایسے شخص کی جس نے “ایٹم بم (جسے دنیا کے خطرناک ترین بموں میں سے ایک ماننا جاتا ہے)” سے سگریٹ سلگایا ۔

 ایک امریکی سائنسدان کو جب طلب ہوئی تو وہ ایٹمی بم کے ٹیسٹ کیلئے تیار کھڑے تھے اور اس جگہ کسی کے پاس بھی لائٹر یا ماچس نہ تھی۔
یہ صاحب عالمی شہرت یافتہ ماہر فزکس ٹیڈ ٹیلر تھے جو امریکہ کے صحرائے نیواڈا میں 1952ءمیں ایٹم بم کے تجربے کیلئے موجود تھے۔ ٹیلر کہتے ہیں کہ دھماکہ کرنے کی تیاری کی جا چکی تھی اور وہ محفوظ فاصلے پر اس کا مشاہدہ کرنے کیلئے کھڑے تھے۔ اچانک انہیں سگریٹ کی طلب ہوئی مگر وہاں کسی کے پاس لائٹر یا ماچس نہ تھی۔ انہوں نے ایک گول انعکاسی شیشے کو اس زاویے سے سیٹ کیا کہ یہ دھماکے کی بے پناہ روشنی کو ایک جگہ منعکس کرے اور پھر اس کے سامنے سگریٹ رکھ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب دھماکہ کیا گیا تو شیشے سے روشنی اتنی شدت کے ساتھ ایک نقطے پر مرکوز ہوئی کہ سگریٹ فوراً جل اٹھا۔ انہوں نے فوراً سگریٹ کو اٹھایا اور دو کش لگانے کے بعد اسے بجھا کر یادگار کے طور پر محفوظ کر لیا۔ بدقمستی سے کئی سال بعد وہ ایک دفعہ ایسی صورتحال میں تھے کہ سگریٹ دستیاب نہ تھا جس پر انہوں نے ایٹم بم سے سلگائے گئے یادگاری سلگریٹ کو ہی دوبارہ سلگا کر پی لیا کیونکہ وہ شدید طلب پر قابو نہ پا سکے تھے۔

اب آپ لوگ نہ کہیں بم سے سگریٹ جلانے کے شوق میں اپنی جان گنوا بیٹھنا