انصاف- ایک کہانی جو آپ کو اشکبار کر دے گی

سلطان مراد ترکستان کا بادشاہ تھا اور اسلامی دنیا کا حکمران تھا ۔ عیسائیوں کی بڑی بڑی حکومتیں اس کا نام سنتے کانپنے لگتی تھیں ۔جیسا کے آپ سب کا معلوم ہے کہ ہر مسلمان حکمران کو عمارتیں بنانے کا شوق رہا ہے اسی طرح سلطان بھی عمارتیں بنوانیں کا شوقین تھا ۔
ایک دفعہ اس نے اپنے دل مین ایک مسجد کا نقشہ بنایا ۔ یہ مسجد اس کے تخیل کا حسین مرقع تھی ۔ اس زمانے میں ایک معمار کی بڑی شہرت تھی ۔ سلطان نے اس معمار کو بلایا اور اور اسے مسجد کے بارے میں بتایا اور اسے بنانے کا کہا ۔
کوئی سالوں کی مسلسل محنت کے بعد آخر مسجد تیار ہو گئی ۔ بادشاہ کو مسجد دیکھنے کا کہا گی ا۔
انجینئر نے بڑے دعوے کے ساتھ بادشاہ کے حضور حاضری دی اور کہا ” حضور مسجد تیار ہے ملاحظہ فر مائیے ”
لیکن جب اگلی صبح بادشاہ نے مسجد دیکھی تو وہ اسے با لکل پسند نہ آئی اور اس نے غصے اور غم میں اس انجینئر کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔
حکم کی دیر تھی جلاد نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔
وہ انجینئر اپنا کٹا ہوا ہاتھ لے کر قاضی کے پاس گیا، اور قاضی کو ساری روداد سنائی اور انصاف مانگا ۔
قاضی نے فوراً بادشاہ کا عدالت میں آنے کا حکم بھجوایا ۔ وہ انجینئر نا امید تھا کے بھلا حاکمِ وقت کہاں عدالت میں آئے گا اور اگر آ بھی گیا تو عدالت اسے سزا دے سکے گی ؟ اگر سزا سنا بھی دی گئی تو بادشاہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے گا ور سزا سے بچ جائے گا۔
لیکن تھوڑی دیر بعد ہی بادشاہ عدالت میں پیش ہوا ، اور مجرموں کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہو گیا ۔ قاضی نے
معاملہ آگے بڑھایا اور پوچھا ” پوچھا کے کیا یہ معمار سہی کہہ رہا ہے ۔”
بادشاہ کو اس وقت تک اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا، اس نے ایک نظر کٹے ہوئے ہاتھ والے معمار کو دیکھا ،اور نادم انداز میں کہا جی جناب میں نے اس کا ہاتھ کٹوایا ہے کیونکہ میں اس وقت بہت غصے میں تھا۔
قاضی نے اس کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے بادشاہ کو فوری سزا سنا دی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
بادشاہ نے کوئی پس و پیش نہ کی اور چپ چاپ جلاد کے پاس چلا گیا ۔
اور اپنا ہاتھ تختے پر رکھ دیا ، اتنا دیکھنا تھا کے معمار کے منہ سے چیخ نکل گئی اور اس نے کہا بس مجھے انصاف مل گیا اب اور مجھے کچھ نہیں چاہئے ۔
بادشاہ نے اس کے بعد اس معمار کو بے بہا دولت دی اور معافی مانگ کے رخصت کیا ۔
اور آج کل نہ ہمارے حکمران عدالت میں جانا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری عدلیہ اتنی مضبوط ہے کہ کسی حاکم وقت کو اس طرح شارٹ نوٹس پر بلا کر فوری سزا دے سکے ۔