لذیذ اور صحت بخش۔۔۔۔ انجیر

اگر انجیر کے ہر دانے کو خوب چبا کر کھائیں تو ہر دانے کی اپنی خوشبو ، لذت اور ٹوٹنے کی الگ الگ آواز ہوتی ہے ۔اس اعتبار سے انجیر کھانا ایک نہایت دلچسپ اور محسوس کرنے والا عمل بھی ہے۔
قرآن پاک میں ایک سورۃ کا نام انجیر کے نام کی وجہ سے “سورۃ التین “ہے اس سورۃ کی آیت 1 تا 4 میں ارشادِباری تعالیٰ ہے :
ترجمہ” قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا کی اور اس امن والے شہر کی کہ ہم نے انسان کو بہترین انداز کے ساتھ پیدا کیا ”
٭غذائی ماہرین کے مطابق انجیر کو اگر سفید آٹے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ سفید آٹے کی قابض تاثیر کو بہت کم کر دیتی ہے ۔
٭کمر میں درد ہو تو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد ٹھیک ہو جاتا ہے ۔
٭سردیوں میں بچوں کو خشک انجیر دیں یہ ان کی نشونما کے لیے بے حد مفید ہے ۔
٭ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کے لیے انجیر بہترین دوا ہے ۔انجیر کا مسلسل استعمال نہ صرف خون کا گاڑھا پن ختم کرتا ہے بلکہ نالیوں میں خون کے انجماد کو بھی روکتا ہے ۔
٭دودھ کے ساتھ انجیر کا امتزاج سب سے عمدہ ہے انجیر عام طور پر کیک اور جام تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔اس سے تیار کی جانے والی پڈنگ بہت ہی لذیذ اور صحت بخش ہوتی ہے ۔
انجیر کو پھلوں میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔نرم اور میٹھی اور گودے سے بھر پور انجیر بہت لذیذ اور صحت بخش ہوتی ہے ۔اس کی شکل ناشپاتی جیسی جبکہ اس کا گودا شکر اور بیجوں سے بھر پور ہوتا ہے ۔بیجوں کا رنگ سنہری ہوتا ہے۔جو اندرونی خلا کی دیواروں سے چپکے ہوتے ہیں ۔انجیر کے میٹھے چھال کے اندر چھوٹے چھوٹے سینکڑوں موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں۔

٭جلدی امراض کے لئے۔۔۔۔

پھوڑے پھنسیوں جیسے مرض کے علاج کے لیے بھی انجیر کا باقاعدہ استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ،اگر انجیر اور دودھ کو مکس کرنے کے بعد پیس کر لئی کی شکل میں پھوڑوں اور پھنسیوں پر لیپ کیا جائے تو وہ جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔اس ضمن میں انجیر کا شربت بھی فائدہ پہنچاتا ہے ،جن لوگوں کے ہونٹ پھٹ جاتے ہوں یا زبان پر چھالوں کی شکایت رہتی ہو ان کے لئے انجیر ایک عمدہ ٹانک ہے چونکہ سبز انجیر کا دودھیا رس موٹی جلد میں خون کی گردش کو بحال کرتا ہے ۔اس لیے پرانی “چنڈی”پر لگانے سے بھی جلد نرم ہو جاتی ہے ۔
احتیاط ضروری ہے۔۔۔!!!
٭انجیر کو بطورخوراک استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھو لیں ۔
٭انجیر تازہ اور نرم لینی چاہیے۔سخت اور سیاہی مائل رنگت والی انجیر ہر گز استعمال نہ کریں ۔
٭کالی اور خشک انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے پائے جاتے ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتے ہیں ۔
٭پانی یا دودھ میں بھگوئی ہوئی انجیر زودہضم ہوتی ہے جبکہ خشک انجیر کی بیرونی سطح سخت ہونے کی وجہ سے یہ جلد ہضم نہیں ہوتی ۔
٭جس پانی میں صاف ستھری انجیر بھگوئی جائے ،وہ پانی بھی پی لینا چاہئے کیونکہ پانی میں بھگونے سے اس کے بہت سے غذائی اجزاءپانی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔

دماغ اور اعصاب کے لئے۔۔۔۔!!

انجیر کے استعمال سے ذہنی اور جسمانی تکان دور ہوتی ہے نئی توانائی اور قوت ملتی ہے ۔انجیر دماغی امراض سے بچانے کے ساتھ ساتھ مزاج اور طبعیت میں نرمی پیدا کرتی ہے ۔جن لوگوں کو دماغی کمزوری کی شکائت ہو وہ ناشتے میں پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ،ایک اخروٹ کا مغز ،اور ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں ملا کر پی لیں ۔چینی بھی شامل کی جا سکتی ہے ۔

شفا بخش پھل۔۔۔!!

انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہےبلکہ طویل علالت کے بعد صحت یابی کے دوران انجیر کھانا بہت مفید سمجھا جاتا ہے ۔

ایک حدیث شریف میں رسول اللہ نےفرمایا”انجیر بواسیرمیں قاطع اور نقرس کو نافع ہے “۔ ﷺ

امراضِ معدہ میں بھی انجیر کا استعمال بہت فائدہ مند ہے ۔انجیر خواہ تازہ ہو یا خشک ہر دو صورتوں میں پیٹ صاف کرتی ہے ،اس کے باریک بیج بھی انتڑیوں کو صاف اور متحرک رکھتے ہیں ۔انجیر کی مناسب مقدار کو خوب چبا چبا کر کھانے سے پیٹ کے بادی اثرات بھی ختم ہوتے ہیں اور معدے کے ضرر رساں کیڑے مر جاتے ہیں ۔انجیر کی بہترین قسم سفید ہے جو گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کر کے نکال دیتی ہے ۔انجیر ہر طرح کے پتھروں کو گھول کر کمزور اور کم کرنے کا کام بھی کرتی ہے ۔اگر پتے یا گردے میں پتھری ہو اور اکثر درد کا باعث بنے تو بھی انجیر مفید ہوتی ہے ۔
٭روزانہ صبح نہار منہ پانچ یا چھ انجیر کلونجی یا کلونجی کے تیل کے ساتھ کھائیں تو پتھری نکل جاتی ہے تاہم استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ بھی کر لیں ۔
٭انجیر کو دمہ کے علاج کے لئے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے ۔بواسیر یعنی پائلزکے مرض میں بھی انجیر بہت فائدہ مند ہے ۔اس کے (piles)
لئے انجیر کے دو یا تین دانے ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں بھگو دیں اور اگلی صبح ان کو کھا لیں ۔صبح کو بھگوئے ہوئے دانوں کو رات کو کھا لیں ۔انجیر کو ہمیشہ شیشے کے برتن میں بھگوئیں ،مٹی کا برتن استعمال نہ کریں ۔

8017166-fresh-figs

٭اگر کسی کی تلی خراب ہو جائے یا تلی پر ورم آجائے تو ایسی صورت میں بھی پانچ یا چھ انجیر ہر روز سرکہ میں بھگو کر کھانے سے چند روز میں فائدہ ہو سکتا ہے ۔اسی طرح اگر انجیر کے ساتھ بادام یا پستہ بھی کھائیں تو یہ تلی کا ورم ختم کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے ۔
٭انجیر اگر ہر روز کسی ایک خاص وقت پر کھانے کا معمول بنا لیا جائے تو اس سے فالج جیسے مرض سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔انجیر کو اخروٹ کی گری کے ساتھ کھانے سے بھی فالج ہونے کا خطرہ نہیں رہتا ۔
٭ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انجیر بہترین دوا ہے ،انجیر کا مسلسل استعمال نہ صرف خون کا گاڑھا پن ختم کرتا ہے بلکہ نالیوں میں خون کے انجماد کو بھی روکتا ہے ۔ایک طرف انجیر کے مسلسل استعمال سے جسم متناسب ہوتا ہے تو دوسری طرف یہ ضرورت سے زیادہ چربی کم کرتا ہے ۔
٭نزلہ اور زکام اگر پرانا ہوچکا ہو اور دواؤں کے مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو انجیر کھا کر دیکھیں ،آپ کو نمایاں طور پر فرق محسوس ہو گا ۔
٭گلے میں خراش اور کھانسی میں انجیر کوخوب اچھی طرح چبا کر کھائیں تکلیف دورہو جائے گی ۔خشک انجیر کو رات بھر پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیروں کی طرح پھول جاتی ہے ۔انجیر کھانے سے گلا بیٹھنے کی شکائت نہیں ہوتی ۔
٭انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم متناسب ہو جاتا ہے۔

604140