انسانی دل کے دس راز


٭سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے:

نیند تو سب کو ہی پیاری ہوتی ہے مگر کچھ لوگ اتنے زیادہ مصروف رہنے کے عادی ہوتے ہیں کہ بہت کم سو پاتے ہیں اور اگر کوئی شخص رات میں چھ گھنٹے سے بھی کم سوتا ہو تو اس میں دل کے امراض کا خطرہ سات سے آٹھ گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے ۔نیدر لینڈ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ اور ویلینگن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سات یااس سے زائد گھنٹے کی نیند دل کی صحت کو بڑھاتی ہے اور ورزش ،خوراک ،تمباکو نوشی وغیرہ کی روایتی نصیحتوں پر عمل نہ بھی کیا جائے تو بھی دل کے امراض کے ہاتھوں بہت سی زندگیوں کوبہتر نیند سے بچایا جا سکتا ہے ۔

٭جسمانی وزن اور دل کا تعلق:

یقیناً جسمانی وزن معانی رکھتا ہے مگر کمر کی چوڑائی دل کی صحت کی جانچ کا زیادہ بہترین طریقہ بھی ثابت ہوتا ہے۔اگر خواتین کی کمر چالیس اور مردوں کی 45 انچ سے زائد ہو تو ان میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔
لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کسی بھی عمر میں جسمانی وزن کم کرنا آپ کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے ۔اس تحقیق کے مطابق جس شخص کا وزن زیادہ ہو گا اسے درمیانی یا بڑھاپے کی عمر میں دل سے متعلق مسائل کا سامنا زیادہ ہوگا ۔جبکہ بلڈ پریشر اور ذیابطیس بونس میں جسم کا حصہ بن جائیں گے

dil ke raaz٭ہنسی اور دل:

ہنسی دنیا کی بہترین اور مفت دوا ہے کیونکہ ہمارا جسم ہنسنے پرہارمون کی مقدار کو کم کرتا ہے جب تناؤ کم ہوتا ہے تو بلڈ پریشر بھی گر جاتا ہےاور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تناؤ کا شکار رہنےپر دل کے دورے کا خطرہ ہنسنے ہنسانے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے جسم میں چھپا تناؤ اور ڈپریشن دل کی صحت کو متاثر کرتا ہےاور دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں بچنے کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے ۔کیلیفورنیا کی لنڈا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہنسنا بھی چہل قدمی کی طرح انسانی قلب کے لیے بہت فائدہ مند ہے ،اور صرف بیس منٹ تک کوئی پر مزاح شو دیکھنے سے ہی بلڈ پریشر اور تناؤ کم ہو جاتا ہے اور دل کے امراض اور ذیابطیس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔

٭اسپرین اوردل کے دورے سے تحفظ :

دل کا دورہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس تک خون پہچانے والی شریانوں میں دورانِ خون کولیسٹرول کی وجہ سے جم جائےاور اس موقع پر اسپرین خون کی رکاوٹ کو دور کر کے زندگی بچانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔سویڈن میں تو 35 سال سے زائد عمر کے مردوخواتین گھر سے باہر نکلتے وقت اسپرین کو اپنے پرس میں رکھتے ہیں کیونکہ یہ دل کے دورے کے موقع پر زندگی اور موت کے درمیان جنگ میں بنیادی فرق ثابت ہو سکتی ہے در حقیقت یہ گولی خون کو پتلا کر کے دل کے دورے کو زیادہ بد ترین ہونے سے بچاتی ہے جس سے لوگوں کے پاس مناسب طبی امداد کے لیے وقت نکل آتا ہے۔
اسی طرح گذشتہ ماہ برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کی ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا  کہ درمیانی عمر میں دس سال تک روزانہ اسپرین کی ایک گولی کے استعمال سے کینسر اور امراضِ قلبسے تحافط مل سکتا ہے ۔

٭خراٹے اور دل:

اپنے خراٹوں کو کبھی نظر انداز مت کریں کیونکہ یہ دل کےمسائل کا سبب یا ان میں اضافہ کر سکتے ہیں ،خراٹوں کے باعث دورانِ نیند سانس صحیح سے نہیں لی جاتی خاص طور پر مٹاپے کا شکار افراد کے لئے تو خراٹے ہائی بلڈ پریشر ،ذیابطیس اور دل کے دورے کا خطرہ بہت ذیادہ بڑھا دیتے ہیں گذشتہ سال جون میں امریکہ کے ہنری فورڈ ہا سپٹل کی ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس کے مطابق خراٹے لینے کے عادی افراد میں تمباکو نوشی یا مٹاپے کے شکار افراد کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان ذیادہ ہوتا ہے
تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ خراٹے جان لیوا طبی مسائل کا ابتدائی وارننگ ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے شریانوں میں خون گاڑھا ہوتا ہے جو برین ہیمبرج ،فالج اور دل کے دورے کا سبب بنتا ہے ۔

heart secrets٭دل کا ٹوٹنا اور ہارٹ اٹیک :

کیا آپ یقین کریں گے کہ دل کے ٹوٹنے سے آپ زندگی کی بازی بھی ہار سکتے ہیں ؟ اپنے کسی پیارے کی موت پر غمزدہ افراد کے لئےدل کے دورے کا خطرہ اکیس گنا تک بڑھ جاتا ہے ۔امریکہ کے ہارورڈ میڈیکل سکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کسی پیارے کی موت کے بعد ،تناؤ ،نیند کی کمی ،اور ادویات لینا بھول جانا ،غمزدہ افراد کے لئے خطرہ بڑھا دیتا ہے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کسی پیارے کی موت کے پہلے روز ہی غمزدہ افراد کو دل کے دورے کا خطرہ اکیس گنا زائد ہوتا ہے جبکہ پہلے ہفتے کے دوران یہ خطرہ چھ گنا زائد ہوتا ہے۔

٭نمک اور دل کا رشتہ:

نمک ہر غذا کا لازمی جزو ہوتا ہے مگر اس کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے ،اپنی خوراک میں نمک کی مقدار میں کچھ کمی کر کے آپ اپنی زندگی کو بچا سکتے ہیں ۔غذا میں نمک کی مقدار میں کمی کرکے امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ چالیس فی صد اور فالج کا 42 فیصد تک کم ہو جاتا ہے جبکہ اوسط بلڈپریشر بھی معمول پر رہتا ہے ۔
٭پرامید شخصیت اور صحت مند دل :
ہمیشہ پرامید رہنے والے افراد میں دل کے دورے کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے جیسا کہ امریکہ کے ہارڈورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی 2012 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ منفی ذہنی حالت جیسے ڈپریشن ،غصہ،اور تنہائی کا احساس دل کی صحت کے لئے تباہ کن ثابت ہو تا ہے ۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ تو یقین سے نہیں بتایا جا سکتا کہ آخر روشن رخ کو ہی دیکھنے کی عادت دل کی دھڑکن کو برقرار کیوں رکھتی ہے مگر مثبت ذہنیت ،ورزش اچھی غذا ،اور مناسب نیند لوگوں کو جن لیوا امراض قلب سے روکتی ہے ۔

٭بیٹھے رہنا اور دل کے درمیان تعلق:

آپ نے یہ تو بہت سنا ہو گا کہ بیٹھے رہنا آپ کی صحت کے لیےخطرناک ہےمگرسست طرز زندگی امراضکی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔اور جو لوگ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں دل کے دورے سے موت کا خطرہ 54 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔

٭شریک حیات کی دل کے لیے اہمیت:

شادی کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ یہ ایسا لڈو ہےکہ جو کھائے وہ پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے،مگر 2013 میں دیانا کی میڈیکل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھاکہ کسی سے قربت اور دل کی نگہداشت بلڈپریشر،تناؤ اور خوف جیسےامراض سے بچاتی ہے ۔جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔