بچوں کے موبائل کی جاسوسی والدین کےلئے خطر ناک ،ماہرین نے بتا دیا

لندن ( نیوز ڈیسک ) انٹرنیٹ ، کمپیوٹر اور سمارٹ فون جدید نسل کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں اور اب ہمارے نوجوان اپنے عزیزوں کے ساتھ اتنا وقت نہیں گزارتے جتنا وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں گزارتے ہیں ۔تشویشناک بات یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل انداز زندگی کے اپنے نقصانات بھی ہیں اور اکثر والدین نہیں جانتے کہ بچوں کی ان سرگرمیوں کی معلومات کیسے رکھیں۔برطانیہ کے رائل کالج آف سائکاٹرسٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کے والدین اپنے بچوں کے موبائل فون اور کمپیوٹر استعمال کی جاسوسی نہ کریں کیونکہ اس سے بچوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان پر اعتماد اور اعتبار نہیں کیا جا رہااور اس سے مسائل اور شدید ہو جاتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں بچوں کو بہت سی منفی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں فحش اور متشدد مواد اور اجنبیوں کی طرف سے ہراساں کیے جانے کے مسائل شامل ہیں۔ماہرین کی تجویز ہے کہ بچوں کی جاسوسی کرنے کی بجائے ان کے رویے پر نظر رکھیں اور کوئی مسئلہ محسوس ہونے کی صورت میں ان سے بات ضرور کریں۔انہیں اعتماد کا احساس دلائیں اور ان کے مسائل جاننے کی کوشش کریں تاکہ ایک دوست کی طرح انہیں حل کر سکیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی دنیا بچوں کے لیے بہت پر خطر ہے اور انہیں آپ کی دوستی اور تعاون کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ کسی شدید مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔