ایک ان کہی داستان

میرا نام علی ہے اور میں اسلا م آباد کا رہنے والا ہوں  ۔یہ بات تب کی ہے جب میری عمر 17سال تھی اور میں گیارہویں جماعت کے امتحانات سے فارغ ہو چکا تھا ۔ چھٹیاں چل رہی تھیں تو سوچا کیوں نہ اپنے دوست احمد جو کہ منگورہ میں رہتا تھا کے گھر چلا جاؤں ۔یہ سوچ کر میں اپنے آپ میں ہی خوش ہوگیا ۔احمد میرا بچپن کا دوست ہے۔اسکے والد گورنمنٹ کے ملازم تھے جس کی وجہ سے انہیں اسلام آباد میں رہنا پڑتا تھا ۔انھوں نے اپنے گھر والوں کو بھی اسلا م آباد بلالیا ۔احمد کے میڑک کرتے ہی انھوں نے جاب چھوڑی اور اپنا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ۔وہ واپس اپنےآبائی علاقے منگورہ میں چلے گئے ۔میں نے گھر والوں سے اجازت لی اور منگورہ جانے کے لیے مختصر تیاری کی ۔ میں احمد سے ملنے کے لیے بے چین تھا۔ہم قریباً ڈیڑھ سال سے نہیں ملے تھے ۔فون پر بات چیت ہوتی رہتی تھی مگر ملاقات ملاقات ہوتی ۔ میں اگلے دن گھر سے نکلا،ابو نے پوچھا احمد کا اطلا ع کردی ہے ۔میں نے کہا ابھی نہیں کی راستے میں کر دوں گا۔ابو نے کہا “یاد سے کردینا اور وہاں پہنچ کر ہم سے ضرور رابطہ کرنا “۔
میں اڈے پر جاکر اپنی مطلوبہ بس میں بیٹھا بکنگ میں نے پہلے ہی کروا رکھی تھی ۔ 10 منٹ بعد بس چل پڑی اور میں کھڑکی سے باہر کے نظارے کرنے لگا۔ پتا ہی نہ چلا کے کب قدرت کے نظارے کرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی ۔ منگورہ کے قریب پہنچ کر آنکھ کھلی اور میں سر جھٹک کر نیند کو بھگانے کی کوشش کرنے لگا ۔آخر منزل بھی آگئی اور میں اس خوبصورت شہر کے بس اڈے پر اترا ۔اڈے پر اترنے کے بعد میں نے انگرائی لی اور آنکھیں مل کر ارد گرد ایک نظر دوڑائی ۔ ایک عجیب سی ہل چل تھی ۔میں ابھی لوگوں کی بد حواسیوں کو ہی دیکھ رہا تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ احمد کو تو فون ہی نہیں کیا ۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو میرے اوسان خطا ہوگئے ۔ کوئی جیب کترا میرے سونے کے دوران موبائل غائب کرگیا تھا۔ میں نے اپنی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے بھی خالی پایا بس ایک بڑا سا سوارخ تھا اس میں اور بٹوے کا نامُ نشان بھی نہیں تھا۔اب میں بہت پریشان ہو رہا تھا۔ اور اب مجھے اپنے اوپر غصہ آ رہا تھا کہ میں سویا کیوں؟
اب مجھے ارد گرد موجود لوگوں کی بدحواسی سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔مجھے اپنے بٹوے اور موبائل کی فکر تھی ۔
میں نے پیدل ہی احمد کےگھر جانے کا فیصلہ کیا ۔ اسکا گھر اڈے 4 سے 5 کلو میٹر کی مسافت پر تھا- میں کبھی پہلے یہاں نہیں آیا تھا صرف فون پر ہی پتہ سمجھا تھا اور اب تو میرے پاس موبائل بھی نہیں تھا۔آخر میں نے چلنا شروع کیا ۔ میں نے دیکھا کہ لوگ سامان اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتے کہیں جا رہے ہیں ۔میں نے ان پر کوئی خاص توجہ نہ دی میں تو بس اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پرچی کو دیکھ دیکھ کر احمد کے گھر کی تلاش میں تھا جس پر میں نے اپنے طور پر نقشہ بنا رکھا تھا ۔
شہر میں بہت کم لوگ نظر آ رہے تھے ۔ مجھے تھوڑی تشویش ہوئی لیکن میں نے سوچا کے احمد سے جا کر ہی پو چھوں گا کہ معاملہ کیا ہے ۔ تقریباً ایک بیس سے پچیس منٹ چلنے کے بعد مجھے لوگ اپنی مخالف سمت بھاگتے ہوئے نظر آئے ۔ وہ چیخ رہے تھے ۔انکی آنکھوں میں خوف تھا ، وہ ایک دوسرے کو روند کر آگے بڑھ رہے تھے ۔میں ڈر گیا ۔میں نے کئی لوگوں کو روک پوچھنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا کوئی رک کر میری بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ سب بس بھاگی جار ہے تھے ۔ میں نے سائڈ پر کھڑے ہو کر جائزہ لینےلگا۔ میں حالات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔میں اس شہر میں نیا تھا، میرے پاس نہ پیسے تھے اور نہ موبائل، اور کوئی شخص میری بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیاکروں ان لوگوں کے ساتھ بھاگنا شروع کردوں ، یہاں کھڑا رہوں یا پھر اپنے دوست تک پہنچنے کی کوشش کروں جو اس پورے شہر میں میرا واحد واقف تھا۔
میں ابھی فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ ایک بہت خوفنا ک آواز سنائی دی ۔میں آواز کی سمت دیکھا تو میں اوسان خطا ہوگئے ۔

اگلی قسط جلد ہی اردو بلاگ پر شائع کی جائے گی