سنائپر کا نشانہ چوک بھی جائے تو گولی ٹارگٹ تک ضرور پہنچے گی، امریکی ادارے نے جدید ٹیکنالوجی سے مزین نئی گولیاں تیار کرلیں

امریکی تحقیقاتی ادارے DARPA (ڈیفینس ایڈوانس ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق Sniper یعنی چھپ کر گولی چلانے والے فوجیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے مزین نئی گولیاں تیار کر لی گئی ہیں۔

ان گولیوں کی خاص بات یہ ہے کہ اگر سنائپر کا نشانہ چوک بھی جائے تب بھی یہ گولی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عین نشانے پر جالگے گی۔ گو کہ اس کے بارے میں مکمل تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم یہ اس گولی میں ٹارگٹ کی نشاندہی کے لیے جدید آلات نصب ہیں۔ جب سنائپر ایک بار نشانے کو منتخب کر لے گا تو ہدایات گولی میں موجود کمپیوٹر کو بھیج دی جائیں گی۔ اب چاہے تیز ہوا چل رہی ہو، یا رستے میں آندھی طوفان سے مدبھیڑ ہوجائے۔ گولی کے اندر نصب ننھا منا کمپیوٹر اسے ہر وقت نشانے کی درست سمت بتاتا رہے گا۔

DARPA حکام کے مطابق یہ نئی گولیاں، افغانستان کے حالات کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں، جہاں سنائپرز کا نشانہ اکثر چوک جاتا ہے۔ ادارہ کا دعوی ہے کہ عام طور پر امریکی فوجی 600 میٹر کی دوری سے نشانہ لگا سکتے ہیں تاہم اس نئی گولی کی مدد سے اب وہ 2000 میٹر تک بغیر کسی غلطی کے نشانہ لگا سکتے ہیں۔

سورس : آئی ٹی نامہ