ڈم ڈم مفت است

ایران سے ایک شخص ہندوستان کے سیروتفریح  کے لیے آیا۔اس نے دیکھا کہ ایک دوکان پر مٹھائیاں اور حلوے وغیرۃ خوب سجا کر رکھے ہوئے ہیں ۔دوکان دار نے پوچھا:

”آپ انہیں کھاتے کیوں نہیں ؟ اتنی عمدہ مٹھائیاں ایسے ہی پڑی ہیں ۔“

دوکان دار نے کہا:

”یہ تو دوسروں کے کھانے کے لیے ہیں میں کھاؤں گا تو نقصان ہوجائے گا۔“

ایرانی کہنے لگا

”اچھا تو پھر یہ مٹھائیاں ہمارے لیے ہوئیں ۔“

چناچہ وہ ایرانی مٹھائی کھانے لگا ۔جب خوب سیر ہوگیا تو ہاتھ روک لیا اور جانے لگا۔دوکاندار نے پیسے مانگے تو  ایرانی کہنے لگا

”تم نے ہی تو کہا تھا کہ مٹھائی تمہارے لیے ہے اگر میں خود کھاؤں گا تو نقصان ہوجائے گا۔“

بالآ خر دوکان دار نے اسے پکڑ کر تھانیدار کے سپرد کردیا۔تھانیدار نے سوچا کہ بیرون ملک سے آیا ہے ،اسے حوالات میں بند کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔بس تھوڑی سی تذلیل کر کے چھوڑ دیتے ہیں ۔تھانیدار نے اس کا منہ کالا کرکے اسے گدھے پر سوار کرادیا اور پیچھے بچوں کی فوج لگا دی کہ وہ اسے خوب چھیڑیں اور ذلیل کریں ۔وہ اس کے پیچھے ڈگڈگی بجاتے اور جلوس نکالتے چلے جائیں ۔چنانچہ بچوں نے خوب نعرے لگائے اور خوب جلوس نکالا ۔

جب وہ اپنے وطن پہنچا تو دوست احباب جمع ہوگئے کہ بتاؤ  ہندوستان کیسا ملک ہے ؟ تو جناب کیافرماتے ہیں ۔

”ہندوستان خوب ملک است ،حلوا خوردن مفت است،غازہ مفت است ،سواری  مفت است ،ڈم ڈم مفت است ،ہندوستان خوب ملک است۔“

یعنی

 

ہندوستان بہت اچھا ملک ہے ۔حلوہ مفت ،غازہ(میک اپ کا پاؤڈر ) مفت ،گدھے کی سواری  مفت ،بچوں کی فوج مفت،نقار مفت،ہندوستان خوب ملک ہے

وہ ایرانی انتہائی ذلت کی حالت کو سمجھتا تھا کے وہ بہت اونچے مقام پر ہے ،ہندوستان والوں نے اس کا بڑا اکرام کیا ۔

(ماخوز از وعظ حضرت مفتی رشید احمد ؒ)

آج کل ہم مسلمانوں خاص کر پاکستانیوں  کی حالت زاربھی اس ایرانی سے کچھ مختلف نہیں ۔ مغربی ممالک اور امریکہ ہمارے معزز حکمرانوں کو ایڈ کے نام پر بھیک دے کر نہایت بے عزت کر کے اپنے ملک سے نکالتے ہیں اور ہم اسی کو اپنا سب سے اونچا مقام سمجھتے ہیں۔

وہ ہمارا منہ کالا کرتے ہیں اور ہم اسی کو اپنا منزل سمجھتے ہیں ۔

آپ ماننے یا نا ماننے ہم اب بھی غلام ہیں ۔ہم اب بھی ذلیل ہیں ۔ہم اس ایرانی کی طرح اپنی اس انتہائی ذلت کی حالت کو خیال کرتے ہیں کے ہم بہت اونچے مقام پر ہیں ۔ پتہ نہیں ہمیں حوش کب آئے گی ؟حوش آئے نہ آئےکم از کم  غیرت ہی آجائے ۔

ہمیں دنیا کو دیکھنے کا اپنا نظریہ بدلنا ہوگا کیونکہ یہی وقت کی ضرورت ہے ۔