اور خدا راضی ہوگیا ۔ خدمتِ خلق پر روشنی ڈالتی ہوئی ایک اچھوتی کہانی

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اکیلا جنگل میں چلا گیا ۔اس نے وہاں ایک جھونپڑی بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوگیا ۔بھوک لگتی تو وہیں جنگل سے پھل وغیرۃ توڑ کر کھا لیتا  اورپانی ،پانی کی تو کوئی تنگی نہ تھی پاس ہی ایک صاف اور ٹھنڈے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا جب دل کرے جاکر پانی پی لو ،وضو کرلو ۔وہ جنگل میں صرف اللہ کی عبادت کرنے اور اسے راضی کرنےکی غرض سے آیا تھا۔سو وہ ہر وقت عبادت میں غرق رہتا ۔جنگل میں آنے کے تقریباً ایک ہفتہ کے بعد اسے خیال آیا کے مجھے کیسے پتہ چلےگا کہ میرا  اللہ مجھ سے راضی ہو ا ہے یا نہیں ۔کافی دیر سوچتا رہا پھر اسکے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔اس نے جنگل سے ایک سوکھی لکڑی لی اور اسے اپنی جھونپڑی نما گھر کے سامنے گاڑ دیا ۔اور اللہ سے دُعا مانگی :

”اے اللہ! اگر تو مجھ سے راضی ہوجوئے تو اس سوکھی لکڑی کو اپنی قدرت سے دوبارہ ہرا بھر کردیں “۔

اسکے بعد وہ مطمئن ہوگیا کے چلو جب اللہ اس سے راضی ہو جائے گا تو اسے پتہ لگ جائے گا۔
وقت گزرتا گیا اور آخر چالیس سال کا طویل عرصہ گزر گیا ۔وہ  شخص اب پہلے سے زیادہ بوڑھا اور کمزور ہوگیا تھا۔لیکن وہ جس مقصد کے لیے یہاں آیا تھا وہ ابھی حاصل نہ ہوا تھا۔وہ سوکھی لکڑی جو اس نے اپنے جھونپڑی کے سامنے گاڑ رکھی تھی ابھی بھی سوکھی تھی۔
اسی طرح دن گزرتے گئے ،آخر کار ایک لکڑہارے کا وہاں سے گزر ہوا۔اس نے بڑی حیرانی سے جھونپڑی میں بیٹھے بابا کودیکھا جو دنیا و مافیا سے بعد خبر خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھا ۔وہ بابا کے پاس گیا اور سلام کیا ۔
بابا نے آنکھیں کھولیں اور اسکے سلام کا جواب دیا۔
اس نے دریافت کیا ”بابا جی ! آپ یہاں پر کیا کرتے ہیں؟ “
دو سوکھی لکڑیاں بابا نے جواب دیا: ”میں یہاں پر اللہ کی عبادت کرتا ہوں تاکہ وہ مجھ سے راضی ہوجائے ۔“

لکڑہارے نے جھونپڑی کے سامنے لگی ہوئی لکڑی کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا یہ کیا ہے ۔
بابا جی  نے جواب دیا :”یہ سوکھی لکڑی میں نے یہاں گاڑی ہے اور اللہ سے دعا کی ہے کے جب وہ مجھ سے راضی ہو جائے تو تب وہ اس سوکھی لکڑی کو دوبارہ سے ہرا بھرا کر دے ،اور اس پر پتے اور پھول اگادے “
”تم بھی میرے ساتھ بیٹھ کر عبادت کرسکتے ہو”۔بابا نے اس کے لیے جگہ بناتے ہوئے کہا۔
لکڑہارے نے جواب دیا،”میں ایک غریب آدمی ہوں لکڑیاں کاٹ کر گھر والوں کا پیٹ پالتا ہوں جس دن کام نہ کروں تو اس دن سب کو فاقہ کرنا پڑتا ہے ،اس جنگل میں آنے کی بھی یہی وجہ تھی کہ میں یہاں سے کچھ لکڑیاں کاٹ لوں اور بازار جاکر میں  بیچ دوں جس سے مجھے تھورے بہت پیسے مل جائیں اور بچوں کے لیے ایک دن کی خوراک کا بندوبست ہوجائے ۔اس لیے میں پورا دن آپ کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ”
پھر اس نے دل میں ساچا تھوڑی دیر عبادت کر لینے میں کیا حرج ہے ۔ چناچہ اس نے بھی ایک سوکھی لکڑی کاٹی اور اسے پہلے والی لکڑی کے ساتھ زمین میں گاڑ دیا۔اور وہیں بیٹھ کر ذکر کرنے لگا۔
ابھی اسے بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کے وہاں سے ایک قافلے کا گزر ہوا۔تھوڑی آگے جاکر قافلہ رُک گیا ۔ لکڑہارے نے بابا سے کہا نہ جانے کیا مسئلہ ہوگیا ہے جو قافلے کی پیش قدمی رک گئی ہے آئیے دیکھتے ہیں ۔بابا نے کہا تم نے جانا ہے تو جاؤ میری عبادت میں خلل کیوں ڈالتے ہو۔
لکڑہارا اٹھا اور جاکر دیکھا کے وہاں ایک اونٹ مرا پڑا ہے اور ایک شخص اس کے پاس پریشان کھڑا ہے ۔لکڑہارے نے قافلے والوں سے معلوم کیا تو پتا چلا کے جو شخص مرے ہوئے اونٹ کے پاس کھڑا ہے وہ قافلے میں شامل ہے اور اس کا اونٹ مر گیا ہے اب اسکا سامان کوئی بھی اپنے اونٹ اور گھوڑے پر رکھنے کو تیار نہیں اور اس صورت میں وہ قافلے سے بچھڑ جائے گا ۔لکڑہارے نے یہ سنا تو اس نے قافلے والوں سے کہا کے واقعی ایک جانور پر دو جانوروں کا بوجھ ڈالنا سراسر زیادتی ہے لیکن اگر ہر شخص اس پریشان حال بندے کا تھوڑا تھوڑا بوجھ اپنے جانور پر لاد دے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ اسکی سواری دھیمی پڑے گی ۔تمام لوگوں کو اس کی تجویز پسند آئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا ۔وہ شخص جس کا اونٹ مر گیا تھا وہ لکڑ ہارے کو دعائیں دیتا نہ تھکتا تھا ۔
لکڑہارا قافلے والوں کی مدد کے بعد واپس آیا تاکہ بابا کو پوری کاروئی بتا سکے اور اپنا کلہاڑا لے کر کام شروع کر سکے ۔
جب وہ واپس آیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسکی زمین میں بوئی ہوئی لکڑی ہری بھر ی ہوگئی ہے اور اس پر ہرے ہرے پتے اور خوبصورت پھول اُگ گئے ہیں۔
وہ تو خوشی سے چلانے لگ گیا۔چھلانگے لگاتا ،اور خدا کا شکر ادا کرتا ۔بابا نے جب یہ آوازیں سنی تو اٹھ کر باہر آیا ۔کیا دیکھتا ہے کہ اسکی لکڑی تو سوکھی کی سوکھی ہے جبکہ اس گنوار لکڑھارے کی لکڑی ایک دم ہری ہے ۔یہ دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا ۔
اس نے خدا سے شکوہ کیا :”یا اللہ ! میں تو ایک عرصہ دراز سے تیری عبادت میں لگا ہوا ہوں ،میری لکڑی ہری نہیں ہوئی تو مجھ سے راضی نہیں ہوا ،جبکہ کے اس لکڑہارے کی لکڑی پر تو نے پھل پھول اگا دیے اور تو اس سے راضی ہوگیا ۔آخر یہ کیا ماجرا ہے ۔”
ابھی اس کے یہ الفاظ ختم ہوئے ہی تھے کے اچانک غیب سے آواز آئی :
”ابنِ آدم تو عرصہ دراز سے یہاں بیٹھا میری عبادت کر رہا ہے،تو نےکبھی میری مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا نہیں سوچا ۔جب کے اس شخص  نے میرے ایک بندے کے ساتھ احسان کا معاملہ کر کے مجھے راضی کرلیا ۔جا میری مخلوق کو فائدہ پہنچا اور انکے ساتھ احسان کا معاملہ کر اسی میں میری رضا ہے ۔“
یہ سنتے ہی بابا نے جھونپڑی شونپڑی وہیں چھوڑی اور شہر کی طرف جانے لگا تاکہ کسی کی مدد کر کے اپنے اللہ کو راضی کر لے ۔

دردِ دل  کے  واسطے  پیدا  کیا  انسان  کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں