دنیا کا پہلا ایٹمی حملہ

دنیا کا پہلا ایٹمی حملہ ہیرو شیما پر ہوا۔
۱۵ اگست ۱۹۴۵ کی شام ہیرو شیما پر وقفے وقفے سے عام قسم کی بمباری ہوتی رہی۔جس کی وجہ سے رات لوگ سو نہ سکے۔یہاں تک کہ صبح ہوگی تو آسمان صاف ہونے کا اعلان ہوا اور لوگ اپنے اپنے کام پر جانے لگے،لیکن سوا آٹھ کے قریب ریڈیو سے اعلان ہوا کہ ۳ دشمن طیارے سائمچو پہنچ گئے۔ابھی یہ اعلان مکمل نیں ہوا تھا کہ تمام لوگ بیگ وقت خوف ناک دھماکےتیز روشنی جھلسادینے والی گرمی غرض ایٹم بم کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے۔یہ بم ایک امریکی جہاز کے ذریعے گرایا گیا۔اس کا نام اینولیگے تھا۔اس بم کی لمبائی ۱۲۰ اینچ قطر ۱۲۸ اینچ اور وزن نو ہزار پونڈ تھا۔یہ بم گرنے کے ۴۳ سیکنڈ بعد پھٹا اور اس سے پانچ کروڑ سینٹی گریڈ گرمی خارج ہوئی۔اس کے گرتے ہی ایک سیکنڈ کے دس ہزارویں حصے میں ۱۸۰ فیٹ کا آگ کا ایک گولا پیدا ہوا۔اس کا اندرونی درجہ حرارت ۳ لاکھ سینٹی گریڈ تھا۔اس کے ساتھ پورے شہر میں ۸ میل فی گھنٹا کی رفتار سے زلزلہ آیا۔اس میں ۲۰ ہزار ٹن کے برابر تباہ کن طاقت تھی۔

first atomic attack
اس دھماکے کے نتیجے میں ڈھائی کلو میٹر تک تمام عمارتیں راکھ بن گئیں۔ ہر جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ کھڑکیوں کے شیشے ۲ میل تک بکھر گئے۔زلزلے کے جھٹکے ۳۷ میل تک محسوس کیے گئے۔آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی کم از کم آٹھ میل تک نظر آئی۔پورے شہر پہ دھوئیں کا بادل چھا گیا۔لوگوں نے پناہ لینے کے لیے شہر کے وسط میں گزرتے دریا میں چھلانگیں لگائیں،لیکن وہاں پہلے ہی گرداب بن چکا تھا۔اس میں وہ سب ڈوب کر مر گئے۔بعد میں دریا میں اتنی لاشیں نظر آئیں کہ سطح سے پانی بمشکل نظر آتا تھا۔سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔حاملہ عورتوں کی لاشیں اس طرح پائی گئ کہ ان کا پیٹ پھٹا ہوا تھا اور بچہ ان کے پاس پڑا ہوا تھا جو پیدا ہونے سے پہلے رخصت ہو چکا تھا۔بم گرنے کے پندرہ منٹ بعد عجیب قسم کی سیاہ بارش شروع ہوگئی۔یہ بارش میلوں تک سوا چار گھنٹے تک برستی رہی۔جن کے سرعں پر اس بارش کا پانی زیادہ مقدار میں پڑا،ان کے سر کے بال اڑ گئے اور جن کے پیٹ میں اس کا پانی گیا،وہ چھ مہینے تک پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا رہے۔گیارہ بجے دوپہر سے لے کر ۲ بجے سہ پہر تک شہر میں ہوا کے بگولے رقص کرتے رہے جس سے آس پاس کی آبادیوں کی چھتیں اڑگئیں۔دریاوں میں پیدا ہونے والے بگولوں نے پانی کو آٹھ آٹھ فٹ اوپر اٹھایا۔
بم گرنے کی جگہ سے کم از کم ڈھائی کلو میٹر دور جو لوگ زندہ بچ گئے،وہ تباکاریوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے یا ان کے جسم جھلس گئے اور جسم کا گوشت بہنے لگا۔اس المناک حادثے میں ۲ لاکھ جانیں تباہ ہوئیں۔ہیروشیما پر حملے کے ۳ دن بعد دوسرا بم ناگاساکی پر پھینکا گیا۔یہ نسبتا چھوٹا علاقہ تھا۔اس میں تباہی کم ہوئی۔ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۷ ہزار اور زخمی ۲۵ ہزار تھے۔