مرزا غلام احمد قادیانی کا مختصر تعارف

مرزا غلام قادیانی ۱۸۳۹ء میں ضلع گورداس پور پنجاب کے ایک موضع قادیان میں پیدا ہوا۔یہ بات اس نے خود اپنی کتاب،کتاب البریہ صفحہ 146 کے حشیے پر لکھی ہے۔الفاظ یہ ہیں :”میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے“۔
پیدائش کے فوراً بعد کیونکہ بچپن کا زمانہ آتا ہے تاکہ آپ کو یہ جاننے میں آسانی ہو کہ مرزا کا بچپن کیسا تھا یا کیا تھا ۔

مرزا غلام قادیانی

نبوت کا جھوٹا دعویدار مرزا غلام قادیانی

مرزا کے بام کا نام غلام مرتضٰی تھا ۔یہ شخص انگریز حکومت کا ملازم تھا ۔اس نے انگریزوں کی خوب خدمت کی تھی ۔اس بات کا اعتراف مرزا نے خود اپنی کتاب راحانی خزائن جلد  صفہ  پر کیا ہے ۔
چناچہ لکھتا ہے :

میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جو انگریز گورنمنٹ کا پکا خیر کواہ ہے ۔میرا والد مرزا غلام مر تضٰی  گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور  خیر کواہ آدمی ہے  ۔جسے گورنر کے دربار میں جگہ ملتی تھی  اور  میں انھوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کی مدد کی تھی ، یعنی جب مسلمانوں اور ہندوؤں نے نے لک کر انگریز حکومت کے خلاف جنگ شروع کی تھی ، اس قوت میرے خاندان نے ،میرے باپ نے انگریز سرکار کی مدد کی تھی اور پچاس گھورے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر( جنگ آزادی کو غدر لکھ رہا ہے ) کے قوت سرکارِ انگریز کی امداد میں دیے تھے۔
مرزا غلام قادیانی اپنے بچپن میں چینی یا گڑ نہ ملنے پر راکھ سے روٹی کھا لیا کرتا تھا ۔جیب میں پسی ہوئی چینی رکھ لیا کرتا تھا۔مرزا کو بچپن میں چڑیا پکڑنے کا بھی شوق تھا۔وہ چڑیا پکڑ کر انھیں چاقو سے ذبح کرتا تھا ۔اس سے وہ خوش ہوتا ۔ایک دن اسے چڑیا پکڑنے کے بعد چاقو نہ ملا تو اس نے سر کنڈے کے چھلکے سے سے بے چاری چڑیا کو ذبح کردیا۔ یہ ہے بے رحمی کی انتہا۔بھلا کر کنڈے سے کون کسی پرندے کو ذبح کرتا ہے ۔ایک دفعہ مرغی ذبح کرتے ہوئے مرغی کی گردن کی بجائے اپنی انگلی پر چھری پھیر لی ۔

مرزا  اکثر جوتے الٹے پہن لیتا تھا،یعنی دائیں کا بائیں میں اور بائیں کا دائیں میں اور مزے کی بات یہ کہ اسے پتا بھی نہیں چلتا تھا کہ اس نے جوتے الٹے پہن رکھیں ہیں ۔آخر اس کی ماں کو جوتوں پر نشان لگانے پڑے کے کونسا دایاں اور کونسا بایاں ہے۔مرزا کو گھڑی پر وقت دیکھنا نہیں آتا تھا ۔ہندسوں کو گن کر وقت کا حساب لگا تا تھا۔تمام ماہرینِ نفسیات اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کے ایسے بچے کم عقل اور کند ذہن ہوتے ہیں ۔یہ سب باتیں ہم اپنی طرف سے نہیں بلکہ مرزائیوں کی اپنی کتاب مستند کتاب سیرت المہدی سے لکھ رہے ہیں ۔

مرزا صرف بچپن میں ہی ایسا نہیں تھا بلکہ لڑکپن میں بھی ایسا ہی بع وقوف تھا۔مرزا کو جرابیں پہننے کا بلکل سلیقہ نہیں تھا۔ کبھی جراب کا ایڑی والا حصہ کہیں کا کہیں ہوتا تو کبھی جرابوں کا اگلا حصہ آگے لٹک رہا ہوتا۔مرزا کو بٹن بند کرنے کا بھی سلیقہ نہیں تھا ۔اکثر بٹن غلط کاج میں لگاتا۔یعنی اوپر والا بٹن نیچے وغیرۃ۔

مرزا کے ایک لڑکے نے اسکی واسکٹ  کی جیب میں اینٹ ڈال دی۔اسے پتا ہی نہ چلا،حالانکہ اینٹ کا وزن دو کلو کے قریب ہوتا ہے ۔جب سونے کے لیے لیٹتا تو اسے اینٹ پہلو میں چبھتی ۔ایسا کئی دن ہوا۔ایک دن مرزا نے اپنے خادم سے کہا: ”میری پسلی میں درد ہے۔شاید کوئی چیز چبھتی ہے۔“

اس نے حیران ہو کر مرزا کی جیب میں ہاتھ پھیرا تو اسے پتا لگا کے مر زا کی واسکٹ میں  تواینٹ ہے۔

حیرت مرزا پر کم اور ان لوگوں پر زیادہ ہوتی ہے جو ایسے جیسے شخص کو نبی مانتے ہیں۔یہ اس کی زندگی کی ایک جھلک تھی جو ہم نے اس کی کتابوں سے لی ہیں۔ مرزا نے اپنی جھوٹی نبوت چمکانے کے لئے بہت سی پیش گوئیاں بھی کیں لیکن وہ سب غلط ثابت ہوئیں۔یہاں ہم اس کی ایک مثال آپ کو بتاتے ہیں ۔

آپ اس مضمون کے شروع میں پڑھ چکے ہیں کہ مرزا ۱۸۳۹ء  یا ۱۸۴۰ ء  میں پیدا ہوا یہ بات خود اس نے اپنے قلم سے لکھی ہے۔اس نے پیش گوئی کی تھی کے اس کی عمر ۸۰ء سال ہو گی ۔ اس پیش گوئی کا ذکر اس نے اپنی کتاب ،کتاب تریاق القلوب صفحہ ۱۳ پر کیا ہے۔اس مات کو مرزائی مانتے ہیں کہ ۲۶ مےئ ۱۹۰۸ء کو مرزا ہیضے کے مرض میں ٹو ئلٹ میں مرا۔یعنی اس وقت اس کی عمر ۶۸ ء سال تھی ۔پیش گئی تو اس نے اسی سال کی تھی لیکن مرا وہ باسٹھ سال کی عمر میں ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا ایک اعلیٰ درجہ کا جھوٹا تھا ۔

حیرت ہے ان لوگوں پر جو یہ سب جانتے ہوئی بھی ایک گھٹیا شخص کو نبی مانتےہیں۔ایسے ہزار ہا واقعات ہیں جن میں مرزا ایسی ہی اوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہے جو انشاءاللہ آئیندہ بیان ہوں گی۔