کولونل سینڈرز – کامیابی کی ایک عجیب داستان

”پینسٹھ  سال کی عمر میں اس کے پاس صرف  تین چیزیں تھیں۔ایک ۱۰۵$  کا سوشل ییکیورٹی چیک  ،دوم چکن بننانے کی خاص اور منفرد ترکیب اور تیسر ی چیز اسکا اپنے پر اعتماد۔“میں بول رہا تھا  اور وہ چپ چاپ میری کہانی سن رہا تھا۔

”سینڈرز  ۱۸۹۰ء  میں ہنری ول مین پیدا ہوا۔چھ سال کی عمر میں اسکے والد کا انتقال ہو گیا ۔اب اس کی ما ں کو گھر چلانے کیلئے ملازمت کرنا پڑی۔جس کی وجہ سے چھوٹے بہن ،بھائی کی زمہ داری اس پر آ گئی ۔چھ سال کی چھوٹی سی عمر میں اس نے اپنے بہن بھائی کے لئے کھانا بنا نا شروع ۔اور ایک سال تک وہ بہت سی مقامی کھانے بنانے میں ماہر ہو گیا ۔اور یہی چیز تھی جس نے بعد میں جا کر اسے دنیا کے کامیاب ترین لوگوں میں شامل کردیا۔اس کی ماں نے دوسری شادی کی تو اس نے گھر چھوڑدیا کیوں کہ اسکے سوتیلے باپ نے اسے مارا تھا۔“

”یہ تو بہت برا ہوا“اس نے افسوس سے کہا۔میں نے  کہانی جاری رکھی ۔

”اس نے ۱۵ سال کی عمر میں فوج میں ملازمت کی شروعات کی ۔اسکے علاوہ اس نے انشورنس ایجنٹ کے طور پر بھی کام کیا ، یہاں تک کے اس نے کھیتی باڑی بھی کی ۔“

میں کچھ دیر کیلئے رکا اور دوبارہ بولا

”40سال کی عمر میں اس نے کاربن میں ایک مسافر خانہ خریدا۔وہاں وہ بھوکے مسافروں کو کھانا کھیلاتا تھا۔سامان کی کمی کی وجہ سے گاہک اسکے ذاتی ٹیبل پر کھانا کھاتے تھےاس  نے اپنے مسافر خانے کو ایک ہٹل میں تبدیل کرلیا۔جہاں وہ چکن اور دوسری مختلف مقامی کھانے پیش کرتا تھا۔اسکے کھانوں خاص کر کے اسکے چکن میں ایک خاص لذت تھی ۔اسکا یہ چھوٹا سال ہوٹل مشہور ہوتا گیا ۔لوگ زیادہ آنے لگ گئے۔یہ وہ  وقت تھا جب پریشر ککر نئے نئے مارکیٹ میں آئے تھے۔اس نے اپنی آرڈر پورا کرنے کی رفتار بڑھانے کیلئے پریشر ککر خرید لئے ۔وہ دس سے پندرہ منٹ میں ایک آرڈر پورا کر لیتا۔قصہ مختصر اسکا ریسٹورنٹ کامیابی سے چلنے لگا اور اس کو اچھی خاصی آمدن ہونے لگی۔“

”وہ تو بہت خوش قسمت تھا“ اس نے کہا ۔

”نہیں  اصل کہانی آگے  شروع ہوتی ہے۔حکومت نے  کئی وجوہ کی بنا پر ایک انٹر سٹیٹ ہائی وے بنانے  کا فیصلہ کیا ۔ہائی وے بن گئی،کولونل کے گاہک کم ہونے شروع ہوئے ۔گاہک کم ہونے شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ ختم ہو گئے ۔“

”وہ کیوں ؟“ اس نے سوال کیا ۔

”کیونکہ اس کے زیا دہ تر بلکہ تمام گاہک مسافر ہوتے تھے،اب جب ہائی وے بن گئی تو سارے لوگ  اس پر سفر کرنے لگے اور اسکا کیفے جو ہائی وے سے تھوڑا ہٹ کے تھا  وہاں آمدورفت نا ہونے کے برابر رہ گئی“
اس نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا۔

”اسکا ہوٹل چلنا بند ہو گیا۔اس پر بینک اور لوگوں کا کافی قرضہ تھا ۔اب سب نے اس  نے قرضہ کی واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ۔اس پر دباؤ بڑھتا گیا آخر اس نے   ریسٹورنٹ اور اپنی دوسری جائیداد &۷۵۰۰۰$ میں بیچ کر قرض اتارا۔“

”اس   وقت اس کی عمر پینسٹھ سال کے لگھ بھگ تھی اور وہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گزار چکا تھا “

”اب اس کے پاس صرف تین چیزیں تھیں  سوشل سیکیورٹی چیک ،چکن بننانے کی ترکیب  اور اسکا  عتماد “

”وہ ۱۰۵$ کے  ماہانہ سوشل سیکیورٹی چیک  پر زندگی گزارسکتا تھا لیکن اسے یہ گوارا  نہیں تھا ۔وہ اپنے چکن کو پوری  دنیا کو کھلانا چاہتا تھا ۔وہ بوڑھا  تھا مگر اس کی خواہشات نوجوانوں جیسی تھیں۔اس نے اپنی ترکیب کو بیچنے کا فیصلہ کیا ۔وہ مختلف ہوٹلوں کے مالکوں سے ملا اس کو ہر طرف کے انکا ر ہوا“

”اس نے امریکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے  تک سفر کا ارادہ کیا اور راستے میں آنے والے تمام ریسٹو رنٹ کے مالکان  کو اپنی چکن بیچنے کا کٹھن فیصلہ کیا “

”اس نے سفر شروع کیا ہر طرف سے انکار سنتا رہا۔جو کوئی اسکی خواہش کے بارے میں سنتا اسے پاگل قرار دیتا۔لوگ اسکی سفید  پینٹ اور کوٹ کا مذاق اڑاتے ۔وہ اس پر ہنستے اور اسے سنکی بڈھا جیسے خطابات سے نوازتے۔وہ جس بھی ہوٹل میں اپنی ڈش بیچنے کی کوشش کرتا اسے دھتکار دیا جاتا۔لیکن وہ  اپنے ارادے سے نہ ہٹا ۔اس پر ڈٹا رہا “

وہ بڑی دلچسپی اور حیرانی سے کہانی سن رہا  تھا ۔میں اس کے چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے۔

”آخر  ۱۰۰۹  نکار سننے کے بعد ۔۔۔“

کاربن میں کولونل کا وہ کیفے جو ہائی وے کی وجہ سے بند ہو گیا

”کیا؟“اس نے حیرانی سے کہا”اس کو اتنے لوگوں نے انکار کیا“

میں نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنی بات جاری رکھی۔

”آخر  ایک ہزار نو انکار سننے کے بعد  وہ  اسے اپنا پہلا خریدار مل گیا ۔ لیکن اس نے ایک فیصلہ کیا اپنی ترکیب نہ بیچنے کا ۔۔“

وہ دوبارہ سے بول پڑا ”آخر کیوں؟ اس کے لئے تو اس نے اتنا لمبا سفر کیا اور اتنی ذلتیں سہیں“

میں نے کہا بتاتا ہوں اور اپنی کہانی دوبارہ سے شروع کی”اس نے ڈش بیچنے کی بجائے اس میں شراکت داری کا  فیصلہ کیا“

”اس نے ہر چکن کی فروخت پر 5 سینٹ ملنے کا معاہدہ تے کیا ۔جو کے اتنا برا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی عرصہ میں اسکے چکن کی سیل حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی ۔1960ء کی دہائی میں پور ے امریکہ میں اسکی چند سو فرنچائز تھیں۔اور میرے خیال میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کے اسکے بعد اسکا کاروبار کتنا بڑھا ہوگا۔“

”اور چار سال بعد  اس کی فرائیڈ چکن اپنی بلندی پر پہنچ چکی تھی۔بوڑھے کولونل نے اپنی کمپنی ایک پرائیویٹ  انوسٹر  وائے-براون کو 2 ملین ڈالر میں بیچ دی ۔ وائے-براون نے کولونل کو کمپنی کا  مرکزی چہرہ  بنے رہنے کا کہا  جس کے عوض اسے ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ  ملتے ۔وہ میڈیا سے ملتا ،اشتہاری مہمات چلاتا ،اپنے گاہکوں اور ورکرز سے ملتا ۔“

”۱۹۸۰ میں وہ ۹۰ سال کی عمر میں انتقال کر گیا“

”اچھا کیا آپ مجھے اسکی ریسٹورنٹ چین کا نام بتا سکتے ہیں “اس نے بڑی امید سے پوچھا

”ہاں ! کیوں نہیں“

”کینٹکی فرائیڈ چکن یعنی کے ۔ایف ۔سی ۔ وہ کے ایف سی کا کولونل ہارلینڈ سینڈرز ہی تھا ۔جس کی تصاویر کے۔ایف۔سی کی ہر فرانچائز اور ڈبے کے اوپر چھپی ہوتی ہے“

وہ حیران بھی ہوا اور خوش بھی ۔اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور چپ کر کے چلا گیا۔شاید وہ یہ سوچ رہا تھا کے اگر بوڑھا  سینڈرز  ۱۰۰۹ انکار سن کر بھی ہمت نہیں ہاری تو میں کیوں ہاروں۔

شاید اب وہ واپس جا کر دو بارہ سے ہمارے ملک میں لگا تار بڑھتی ہوئی بے روز گاری کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا ۔میں یہ سوچ کر مسکرا دیا اور دریائے راوی کی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے لگا۔