کامیاب طالب علم – غیر روایتی مگر آجکل کے طلباء کیلئے موزوں او ر جامع تحریر

ہمارے وطنِ عزیز کے طالب علموں کی مثال گدھوں کی سی ہے۔ہاں  جی  اور نہیں تو  کیا  ۔   ایک طالب علم گدھے   کی طرح کتابوں کا بو جھ اٹھا تا ہو ا   آہستہ   آہستہ منزل کی طرف چلتا  رہتا  ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ  منزل  پر پہنچ کر اسے ڈگری یا پھر  شاید چارہ  مل جائے گا۔

طالب علم کی زندگی صرف ڈگری لینے کیلئے نہیں ہوتی۔ زندگی صرف کتابوں اور بستوں کا نام نہیں ۔ہم بچپن ہی سے اپنے بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔لیکن بچہ پڑھائی سے تنگ آکر اسکو ایک بوجھ سمجھتا ہے  اور ہمیشہ اس سے جان چھڑاتا ہے۔ اور پوری زندگی اسے  اپنی  ایک مجبوری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا ۔

غیر نصانی کتب کا مطالعہ

میں اکثر   اپنے  دوستوں  اور کزنز سے  پوچھتا  ہوں کہ  آجکل کونسی کتاب  کا  مطالعہ کررہے  ہیں تو  آگے سے ہمیشہ جلاکٹا   جواب  ملتا  ہے کہ نصاب   سے تو  جان  چھٹتی  نہیں   دوسری   کتب کیا  خاک  پڑھیں ۔  میرے خیال میں یہ کوئی   ٹھوس وجہ نہیں کہ  اس  وجہ   سے کتب  بینی چھوڑدی  جائے ۔اگر  آپ کے پاس وقت نہیں تو آپ  جتنا  پڑھ  سکتے  ہیں  اتنا  تو  پڑھئے جتنا وقت ہے زیادہ نہیں تو صف ایک صفہ ہی پڑھ لی جیئے اگر وہ بھی نہیں تو آدھا بھی چلے گا مگر پڑھئے تو سہی۔ اس سے نہ صرف آپ اپنے ہم جماعتوں سے آگے نکلیں گے بلکہ آپ کے علم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ھو گا ۔یہ میرا آزمودہ ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے پر 4-5 کلاس میں بچوں کے رسالے پڑھنا شروع کیے تھے پھر وقت کے ساتھ ساتھ دوسری کتب کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔میں نے شہاب نامہ سے لے کر شاہراہِ کامیابی تک بہت سی کتب  کا مطالعہ کیا    اور میری اردو اور انگریزی اپنے ہم جماعتوں کے لحا ز سے کافی بہتر ہو گئی۔اس سے میرے نصابی سرگرمیوں پر بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔

کھیل کود


اکثر طالب علم کتابی کیڑا بن جانے کو ہی کامیابی کی سیڑھی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حقیقت اس سے بلکل مختلف ہے اور یہ بات بھی ناچیز کے مشاہدہ میں رہی ہے کہ ایسے طالب علم زیادہ تر متوقہ نمبر نہیں لیتے۔ میرے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں ۔ اس لیئے ہر طالب علم کو چاہیئے کے اگر روزانہ نہیں تو ہفتہ میں تین دن ہی اپنا پسندیدہ کھیل کھیلے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک دن تو کھیل لے یار۔اس سے دماغی اور جسمایے صحت پر خوش آئند اثرات پڑیں گے۔ آپ چست اور توانا رہیں گے۔ اس سے آپ کے پرھائی بھی اچھے سے جاری رہے گی۔
انٹرنیٹ اور فلمیں

Successful student

انٹرنیٹ آج کے دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں ۔ اس کے بہت سے نقصان بھی ہیں لیکن ہم یہاں صرف اسکے طلباء کیلئے فوائد کا ہی ذکر کریں گے۔
جو طلباء انٹرنیٹ کے سود مند جال سے دور رہتیں وہ اس ہمہ وقت بدلتی دنیا سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال بندے کو ایک مقام پر پہنچا دیتا ہے۔
مثبت اور منا سب فلمیں بھی طلباء پر اچھا اثر ڈال سکتی ہیں ۔ اب فلموں میں ناچ گانوں کے علاوہ بھی بہت سی اچھی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ لوگ صرف لطف اندوز(انٹرٹینمنٹ)کیلئے دیکھتے تھے مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ اب لوگ فلموں میں تعمیری پہلو تلاش کرتے ہیں۔ اچھی اور مقصدیت کی حامل فلمیں طلباء میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مثلاً آپ ڈاکومنٹریز مویز دیکھ سکتے ہیں وغیرۃ وغیرۃ۔

تحقیقی کام

آپ بھی سوچ رہے ہوں گیں کہ ایک سٹوڈنٹ بیک وقت اتنے کام کیسے کرکستا ہے کے کتابیں بھی پڑھے،کھیلوں مین بھی حصہ لے ، انٹرنیٹ بھی چلائے تحقیقی کام بھی کرے ۔ تو محترم اس کا آسان اور مفید حل آپ کو بتلائے دیتا ہوں۔
آپ ایک ایسا کام یا شخصیت منتخب کریں جو آپ کی نصاب سے متعلق ہو مثلاً آپ مطالعہ پاکستان میں سردار عبدالرب نشتر کے بارے میں پڑھتے ہیں یا تھومس ایڈیسن کے بارے میں تو آپ اس پر تحقیق کریں ۔ اور جی تحقیق کیسے کریں تو آپ اوپر بیان کی گئی  ہیڈنگز کو دیکھیں مثلاً آپ ایڈیسن کے بارے میں کوی کتاب پڑھیں ، اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر تحقیق کریں ، اس سے متعلقہ کوئی ڈاکومینٹری فلم دیکھیں۔ آپ اسکے باری میں مکمل معلومات اکھٹی کریں ۔ آپ اس کے بارے میں وہ سب کچھ جان لیں جو وہ اپنے بارے میں جانتا تھا۔ اسی طرح آپ کوئی ساینٹیفک تھیوری جیسے “آئین سٹائین”  کی “سٹیٹک  یونیورس” کی تھیوری وغیرۃ آپ اس پر بھی تحقیق کیلئے بھی اوپر دیا طریقہ استعمال کریں۔
آپ کی تحقیق 1 ہفتہ سے لے کر 1 مہینہ بھی لگ سکتا ہے۔
یقین جانئے ایسا کرنے سے نہ صرف آپ ایک مثالی کامیاب طلباء کی صف میں شامل ہوں گے بلکہ آپ کی خود اعتمادی بھی آسمان کو چھونے لگے گی ۔
آپ ان چیزوں کے علاوہ بھی دوسری نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کر سکتے ہیں۔

 نہیں ہے نہ امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
زرا  نم  ہو  تہ یہ مٹی بڑی زرخیز ہے  ساقی

چھوٹے بچوں کیلئے

چھوٹے بچے اپنے ذوق کے بطابق کھلیں، رنگین تصویروں والی کہانیاں پڑھیں ، چھوٹی  چھوٹی نظمیں پڑھیں ۔ آجکل بہت سی اچھی اور سبق آموز اینیمیٹڈ مویز بنتی ہیں وہ دیکھیں ۔ اور جو دل چاہے وہ کرو یار !!!