ميري پسند

ميري پسند
تم جو پل كو ٹہر جاؤ تو يہ لمحے بھي
آنے والے لمحوں كي امانت بن جائيں
تم جو ٹہر جاؤ تو يہ رات، مہتاب
يہ سبزہ ، يہ گلاب اور ہم دونوں كے خواب
سب كے سب ايسے مبہم ہوں كہ حقيقت ہو جائيں
تم ٹہر جاؤ كہ عنوان كي تفسير ہو تم
تم سے تلخئي اوقات كا موسم بدلے
رات تو كيا بدلے گي، حالات تو كيا بدليں گے
تم جو ٹہر جاؤ تو ميري ذات كا موسم بدلے
مہرباں ہوكے نہ ٹہرو تو پھر يوں ٹہرو
جيسے پل بھر كو كوئي خواب تمنا ٹہرے
جيسے درويش مدانوش كے پائل ميں كبھي
ايك دو پل كے ليے تلخئي دنيا ٹہرے
ٹہر جاؤ كہ مدارت مئہ خانے سے
چلتے چلتے كوئي ايك آدھ سبو ہو جائے
اس سے پہلے كہ كوئي لمحہ آئندہ كا تير
اسطرح آئے كہ پيوست گلو ہو جائے

Posted in اردو بلاگنگ | Comments Off

محبت

محبت اوس کی صورت
پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے
گلوں کے آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے
سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی جگمگاتی مسکراتی ہے
محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے
کسی فردوس کی صورت
محبت اوس کی صورت
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اترتی ہیں کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے کچھ اسطرح جگمگاتے ہیں
کے پہچانی نہیں جاتی دلِ بیتاب کی صورت
محبت کے شجر پر خواب کے پنچھی اترتےہیں تو شاخیں جاگ اٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتظر آنکھوں میں
شمعیںجاگ اٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی چراغ آب کی صورت
محبت خواب کی صورت
محبت خواب کی صورت

محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہیں
شبانِ ہجر میں روشن ستارہ بن کے رہتی ہیں
منڈیروں پر چراغوں کی لویں جب تھرتھراتی ہیں
نگر میں ناامیدی کی ہوائیں سنسناتی ہیں
گلی میں جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں ہوتا
دکھی دل کے لیے جب کوئی بھی دھوکا نہیں ہوتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوتنے لگتے ہیں شانے تو
یہ ان پہ ہاتھ رکھتی ہیں
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جا تی ہیں جب سارے قافلے دل کی بستی سے
فصا میں تیرتی ہیں یہ دیر تک
یہ گرد کی صورت
محبت درد کی صورت

Posted in اردو بلاگنگ | Comments Off

رقص میں رات ہے دن کی طرح

رقص میں رات ہے دن کی طرح
رقص میں رات ہے دن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائےِ بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

پروین شاکر

Posted in مشہور شعرا کی شاعری | Leave a comment

تمام لوگ اکیلے کوئے رہبر ہی نہ تھا

تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا

تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا

برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں
وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا

تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر
جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا

سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا

میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی
کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا

کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں
وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا

بدن میں پھیل گیا شرخ بیل کی مانند
وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا

ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے
کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا

قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا
بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا

پروین شاکر

Posted in مشہور شعرا کی شاعری | Leave a comment

شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے

شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں، نقش بھی پیارے نکلے

ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے

کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے

رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے

عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے

دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے
شاخ  پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے

پروین شاکر

Posted in مشہور شعرا کی شاعری | Leave a comment

کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی

کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی

کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی

اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی

پروین شاکر

Posted in مشہور شعرا کی شاعری | Leave a comment

کٹھن ہے راہگذر تھوڑی دور ساتھ چلو

کٹھن ہے راہگذر تھوڑی دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر،تھوڑی دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے
یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

نشے میں چور ہوں میں بھی تمہیں بھی ہوش نہیں
بڑا مزا ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

یہ ایک شب کی ملاقات بھی غنیمت ہے
کسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے
ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو

طواف منزل ِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے
فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

Posted in مشہور شعرا کی شاعری | Leave a comment

خود کو یُوں محسوس کرتا ہوں

غروبِ شام ہی سے ، خود کو یُوں محسوس کرتا ہوں
کہ جیسے اک دیا ہوں، اور ہَوا کی ذرد پہ رکھّا ہوں

چمکتی دھُوپ تُم، اپنے ہی دامن میں نہ بھر لینا
میں ساری رات پیڑوں کی طرح، بارش میں بھیگا ہوں

کوئی  ٹُوٹا ہُوا رشتہ نہ دامن سے اُلجھ جاۓ:
تُمھارے ساتھ پہلی بار، بازاروں میں نکلاہُوں

یہ کس آواز کا بوسہ، میرے ہونٹوں پہ کانپا ہے
میں پچھلی، سب صداؤں کی حلاوت، بھُول بیٹھا ہوں

بچھڑ کر، تُم سے، میں نے بھی کوئ ساتھی نہیں ڈھونڈا
ہجومِ رہگُزر میں، دوُر تک دیکھو، اکیلا ہوں

Posted in شاعری | Leave a comment

میں اور میری آوارگی

پھرتے ہیں کب سے دربدر، اب اس نگر اب اُس نگر
ایک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی
نا آشنا ہر رہگزر، نہ مہرباں ہر اک نظر
جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی

ہم بھی کبھی آباد تھے ، ایسے کہاں برباد تھے
بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے
وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی

جینا بہت آساں تھا ، اک شخص کا احسان تھا
ہم کو بھی اک ارمان تھا ، جو خواب کا سامان تھا
اب خواب ہے نہ آرزو ، ارمان ہے نہ جستجو
یوں بھی چلو خوش ہیں مگر ، میں اور میری آوارگی

وہ مہوش وہ ماہ رو ، وہ ماہِ کامل  ہوبہو
تھیں جسکی باتیں کوبہ کو، اس سے عجب تھی گفتگو
پھر یوں ہوا وہ کھو گئی  ، تو مجھ کو ضِد سی ہوگئی
لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر  ، میں اور میری آوارگی

یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کے وہ دلبر گیا ، ترے لئیے میں مر گیا
روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی

اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے
یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے
پیشہ نہ  ہو جسکا ستم ، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم
ہوں گے کہیں تو کارگر ، میں اور میری آوارگی

آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے
گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم  ہیں سب ٹوٹ کے
قسمت کا سب یہ پھیر ہے ، اندھیر ہے اندھیر ہے
ایسے ہوئے ہیں بےآثار ، میں اور میری آوارگی

جب ہمدم و ہمراز تھا  ، تب اور ہی انداز تھا
اب سوز ہے تب ساز تھا ، اب شرم ہے تب ناز تھا
اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا ، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا
ایک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی

Posted in شاعری | Leave a comment

جینے کی اک امنگ میر ے پاس تو دہی

جینے کی اک امنگ میر ے پاس تو دہی
کچھ دیر کو سہی یہ خوشی راس تو رہی

یا دوں کے اثا ثے ہیں میر ے پاس بہت سے
کچھ وقت گذاری کی مجھے آس تو ر ہی

یہ کیسا جام تھا جسے پینے کے بعد بھی
سانسیں ہو ئیں بحال مگر پیا س تو رہی

جس کی مجھے تلاش تھی وہ ہی نہ مل سکا
لوگوں کی ورنہ نظر کرم خاص تو رہی

مانو کے دل کسی پہ بھی آیا نہیں کبھی
حالانکہ وصل رت بھی میرے پاس تو رہی

خو شبو تیری بچھڑ کے بھی تجھ سے میرے حبیب
……..بن کر تیرے وجود کا احساس تو رہی

Posted in شاعری | Leave a comment